خرابی کی جڑ: اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے، مگر ابلیس نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ اس کا سبب اس کا "بڑائی" کا احساس تھا، یعنی أنا خير منه آدم کو چھوٹا سمجھنا اور ان کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھ لینا، یہی وہ جرم تھا جس کی بنا پر ابلیس خدا کی پیروی نہ کر سکا اور ملعون قرار پایا۔ یہی احساس تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ انسانی زندگی میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، ان سب کی وجہ آخر کار یہی خودساختہ برتری کا احساس ہوتا ہے۔
آدمی جب حق کا اعتراف نہیں کرتا تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ اس نے داعیِ حق کو کم اور اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ سمجھ لیا تھا۔ جب آدمی کسی کے خلاف زیادتی کرتا ہے تو اس کی جرات بھی اس کو اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ شخص کو کمتر اور اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو برتر سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ادارے میں جب عہدے کے جھگڑے ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے بھی یہی سبب ہوتا ہے۔ ایک شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اس عہدے کا زیادہ مستحق ہوں۔
اپنے بارے میں بڑائی کا احساس رکھنے والا آدمی اگر اپنے آپ کو زورآور پائے تو وہ اپنے خیال کے مطابق کمزور فریق کے خلاف ظلم و زیادتی کرنے لگتا ہے۔ یہ گویا اپنے احساسِ برتری کا فعال اظہار ہے۔ اس کے بجائے وہ آدمی جس کا یہ حال ہو کہ وہ احساسِ برتری کا شکار تو ہو لیکن وہ زورآور نہ ہو، ایسا آدمی انفعالی طور پر اپنے جذبۂ برتری کا اظہار کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حسد اور جلن جیسی نفسیاتی کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
وہ لفظی بڑائی کر کے دوسرے کے قد کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے رجحان کے مطابق جس واقعے کو وہ خارجی طور پر ظہور میں نہ لا سکے، اس کو وہ اپنے قلب اور اپنی زبان کے ذریعے ظہور میں لا کر یہ تسکین حاصل کرتے ہیں کہ جو ان سے چھوٹا تھا، اس کو انہوں نے آخر کار چھوٹا ثابت کر دیا۔ فرشتوں کی صفتِ اعتراف فرشتوں کی صفت اعتراف ہے، اور شیطان کی صفت بے اعترافی۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 155۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.