کھونے میں پانا۔ قرآن میں ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر مصیبت ڈالتا ہے، اس کو محرومی اور نقصان میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ بندہ صبر کرے تو صبر کی یہ روش اس کو ہدایت والا بنا دیتی ہے۔ البقرہ 157۔
اس معاملے کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلم پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ اپنی مصیبت کے وقت "إنا لله وإنا إليه راجعون" کہتا ہے، اور یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے، اور اس کے بعد اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ اس کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے۔ لا يصيب أحد من المسلمين مصيبةً فيسترجع عند مصيبته ثم يقول: اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيراً منها إلا فعل ذلك به. تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 198۔
دنیا جس قانونِ الٰہی کے تحت چل رہی ہے، اس کے مطابق یہاں ہر آدمی پر مصیبت کے لمحات آتے ہیں۔ مصیبت کے ان لمحات میں آدمی اگر مغلوب نہ ہو، وہ ان کے مقابلے میں ثابت قدم رہتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرے۔ وہ انسانوں سے شکایت کرنے کے بجائے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے، تو اس کی یہ صابرانہ روش زیادہ بہتر انجام کے ساتھ اس کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ زیادہ بہتر انجام ہدایت کی روشنی ہے۔
مصیبتوں پر صبر سے آدمی کی روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ زیادہ حساس ہو کر خدائی فیضان کو اخذ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ خلافِ ایمان اوصاف مثلاً گھمنڈ، انتقام، بے اعترافی، حبِ جاہ وغیرہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسا آدمی شعوری اعتبار سے دنیا سے دور اور آخرت سے قریب ہو جاتا ہے۔
مصیبت حقائقِ معنوی میں داخلے کا دروازہ ہے۔ مصیبت کے ذریعے آدمی کو معرفت کی روشنی حاصل ہوتی ہے۔ مصیبت میں آدمی مادی چیز کھوتا ہے، اور اس کے بدلے میں وہ روحانی نعمتوں کو حاصل کر لیتا ہے۔ مگر یہ کھونے میں پانا صرف اس شخص کے لیے مقدر ہے جو مصائب و نقصان پر صبر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 154۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.