Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Muntaqab bandey

Urdu · 4 min

منتخب بندے: خُرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور ابلیس کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس مکالمے کا ایک جز یہ تھا: ابلیس نے کہا، "اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے، اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے مزین کروں گا، اور سب کو گمراہ کر دوں گا، سوائے ان کے جو تیرے چنے، یعنی مخلص بندے۔ " خدا نے کہا، "یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔

بے شک جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا زور نہیں چلے گا، سوائے ان کے جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کریں، اور ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔ " اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں: الحجر 39 تا 44۔ ابلیس یا شیطان لوگوں کو صحیح راستے سے بھٹکانے کے لیے جو تدبیر اختیار کرتا ہے، وہ تزین ہے، یعنی غلط عمل کو درست بنا کر پیش کرنا۔ تزین کے اس فتنے سے وہ لوگ بچیں گے جو خدا کے چنے ہوئے بندے ہوں۔

اس بچاؤ کی صورت کیا ہوگی؟ اس کا جواب ایک حدیث میں اس طرح ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں اپنے بندوں کی مغفرت اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک کہ وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں۔ " القرطبی جلد 10 صفحہ 27۔ اس سے معلوم ہوا کہ تزین کا توڑ استغفار ہے، یعنی جب بھی شیطان کسی غلط عمل کو مزین کر کے پیش کرے تو بندہ حکمت خداوندی کو استعمال کر کے شیطانی فریب کی حقیقت کھول دے۔

وہ اپنی ایمانی فراست کے ذریعے شیطان کی تزین کو سمجھ جائے، اور استغفراللہ کہہ کر اپنے آپ کو شیطان کے فکری جال میں پھنسنے نہ دے۔ شیطانی تزین کا معاملہ فکر اور سوچ کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کے توڑ کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی خدائی وحی اور خدائی نشانیوں میں غور کر کے اپنے آپ کو اس حد تک باشعور بنائے کہ جب بھی شیطان کسی غلط چیز کو مزین کر کے اس کے سامنے لائے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ کر کے اس کی غلطی کو معلوم کرے، اور اس طرح اس کے فریب میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچا لے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 153۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.