Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Insani kirdaar

Urdu · 4 min

انسانی کردار۔ قرآن کی سورہ نمبر 14 میں ارشاد ہوا ہے کہ "کیا تم نے نہیں دیکھا کس طرح مثال بیان فرمائی خدا نے کلمۂ طیبہ کی؟ " وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے، اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے، اپنے رب کے حکم سے، اور خدا لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

ابراہیم 24:25۔ پھل دار درختوں کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے موسم پر اپنا پھل دیتے ہیں۔ موسم آتے ہی ایسے درختوں میں پھول نکلتے ہیں جو بہت جلد پھل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ وقت پر اپنا پھل دینا یہ درخت کی صفت ہے۔

یہی صفت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ جو واقعہ درخت میں پھل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، وہی واقعہ انسان کی زندگی میں اخلاقی رویے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ گویا ایک اگر مادی پھل ہے تو دوسرا اخلاقی پھل۔ پہلا واقعہ طبعی قانون کے تحت پیش آتا ہے، اور دوسرا واقعہ خود انسان کے اپنے شعوری فیصلے کے تحت۔

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے ہر موقع پر اپنے قول و عمل سے وہ اسی روش کا اظہار کرے جس کی توقع انسان ہونے کی حیثیت سے اس سے کی گئی ہے۔ کسی معاملے میں اس کو اپنا بیان دینا ہو تو وہ وہی کہے جو انصاف کا تقاضا ہو۔ وہ کسی حال میں بے انصافی کی بات اپنی زبان سے نہ نکالے۔ اگر کسی کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز بات پیش آئے تو وہ اس کے مقابلے میں تحمل کا انداز اختیار کرے، کیونکہ تحمل کے خلاف روش انسان کی انسانیت کے مطابق نہیں۔

اس کا یہی انداز عملی معاملات میں بھی ہو۔ وہ جب بھی لوگوں کے درمیان کوئی عمل کرے تو پہلے یہ سوچ لے کہ اس کا یہ عمل اس کے انسان ہونے کی حیثیت کے مطابق ہے یا اس کے مطابق نہیں۔ وہ جب ایک راستے پر چلے تو وہ دوسروں کو بھی راستہ دے رہا ہو۔ وہ جب دوسروں کے ساتھ لین دین کرے تو اس کا لین دین عین وہی ہو جس کی امید اس سے انسان ہونے کی بنا پر کی گئی تھی۔

اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.