Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Noqsaan me fayeda

Urdu · 3 min

نقصان میں فائدہ: قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ جب وہ کچھ کھوئے تو وہ اس پر مایوس نہ ہو۔ الحدید 22 یہ ایک اہم اصول ہے جو موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں لازمی طور پر ہر انسان کو نقصان کا تجربہ پیش آتا ہے۔ اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں، حتیٰ کہ پیغمبر بھی نہیں۔

یہ سادہ معنوں میں صرف نقصان نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ ترقی کا زینہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نقصان کے بغیر کوئی شخص بڑی ترقی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایک شخص بچپن میں یتیم ہو جائے تو بظاہر یہ نقصان کا واقعہ ہے، مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سرپرست سے محرومی اس کے لیے خود اعتمادی کی تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایک باپ معاشی دوڑ میں ناکام رہ جائے تو اس کے بچوں میں عمل کا نمایاں شوق پیدا ہو جاتا ہے۔

وہ زیادہ محنت کر کے باپ سے بھی زیادہ بڑی ترقی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک شخص کو اپنے باپ سے وراثت میں کچھ زرعی زمین ملی، مگر اس کے کچھ قریبی لوگوں نے غلط کارروائی کر کے اس کی آبائی زمین اس سے چھین لی۔ اس کے بعد وہ شہر چلا گیا، اس نے ایک فیکٹری میں ملازمت کر لی، یہاں اس کی صلاحیتوں کو زیادہ بڑا موقع ملا۔ ترقی کرتے کرتے وہ خود ایک فیکٹری کا مالک بن گیا۔

زرعی نقشے میں اس نے جو کچھ کھویا تھا، صنعتی نقشے میں اس نے مزید اضافے کے ساتھ اس کو پا لیا۔ اس دنیا میں امکانات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہاں نقصان میں بھی فائدے کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ یہاں کھونے کے بعد بھی آدمی دوبارہ بہت کچھ پا لیتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ بے حوصلہ نہ ہو۔ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو مسلسل استعمال کرتا رہے۔

مایوسی ہمیشہ وقتی نقصان کی بنا پر ہوتی ہے۔ آدمی کی نگاہ اگر مستقبل کو دیکھ سکے تو وہ کبھی مایوس نہ ہو، کیونکہ اس دنیا میں بار بار حالات بدلتے ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ زمین کی گردش رات کو صبح میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.