برائی پھیلانا۔ قرآن کی سورہ النور میں کچھ خاص معاشرتی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ مدینے کے کچھ غیر مخلص اور غیر ذمہ دار مسلمانوں نے حضرت عائشہ صدیقہ کے بارے میں ایک لغو بات سنی اور فوراً ہی اس کا چرچہ کرنے لگے۔ اس فعل کو قرآن میں "اشاعت فاحشہ" کہا گیا ہے، سورہ النور آیت 19۔
اس سلسلے میں ایک ضروری ہدایت قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا ۗ سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ۗ يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ النور 16:17۔ اور جب تم نے اس کو سنا تو یوں کیوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے نکالیں؟ معاذاللہ، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔
ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق عائشہ صدیقہ کے بارے میں جھوٹے پروپیگنڈے سے ہے، مگر قرآن ایک ابدی کتاب ہے اور اس اعتبار سے اس آیت کا ایک عمومی اور وسیع تر مفہوم بھی ہے، اور وہ یہ کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کے بارے میں اس نوعیت کی کمزوری سے بچنے کا شدید اہتمام کرے، جو اسلام کے دورِ اول میں مدینے کے معاشرے میں پیش آئی تھی۔ سماجی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کے بارے میں کوئی بات سامنے آتی ہے، باعتبارِ حقیقت وہ ایک سادہ بات ہوتی ہے، مگر کوئی شخص نادانی یا شرپسندی کی بنا پر اس کا ایک الٹا مفہوم نکال کر اس کو بیان کرتا ہے۔ اب سننے والے اس کو لے کر اس کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بے بنیاد بات ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ اسلامی شریعت کے مطابق یہ طریقہ بدترین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کی زبان سے ایسی کوئی بات سنی جائے تو فوراً اس کی دلیل اس سے پوچھی جائے۔ اگر وہ اپنے قول کی تائید میں کوئی حقیقی دلیل نہ دے سکے تو سختی کے ساتھ اس کی مذمت کی جائے، اور لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ کوئی شخص بے دلیل بات نہ اپنی زبان سے نکالے اور نہ کوئی سننے والا اس کو سنے۔ بری بات کو تحقیق کے بغیر دہرانا اسلام میں بہت بڑا جرم ہے۔ اسلام ایک تعارف۔
مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 150۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.