مشورہ: قرآن میں خدا کے مطلوب انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ وأمرهم شورى بينهم. الشورى 38 مشورہ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔ کسی ایک انسان کا علم ہمیشہ محدود ہوتا ہے؛ وہ ساری باتوں کو یا کسی بات کے تمام پہلوؤں کو نہیں جان سکتا، حالانکہ موجودہ دنیا میں کوئی صحیح فیصلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تمام متعلق پہلوؤں کی رعایت شامل ہو۔
مشورہ اسی مسئلے کا حل ہے۔ وہ افراد کی انفرادی کمیوں کی تلافی ہے، جبکہ معاملے کو مختلف لوگوں کے درمیان رکھا جائے اور ہر آدمی کو کھلے طور پر اپنی رائے دینے کا موقع حاصل ہو، تو ایسی صورت میں زیرِ مشورہ معاملے کے تمام پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جامع واقفیت کی روشنی میں معاملے کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جائے۔ مشورے کو حقیقی مشورہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں کچھ اوصاف لازمی طور پر پائے جاتے ہوں: آدمی کو اپنی کمی کا احساس ہو، وہ کسی صحیح رائے کو ماننے کے لیے اپنی انا کو رکاوٹ نہ بننے دے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ تعصب کے خول سے نکل کر کھلے ذہن کے ساتھ لوگوں کی باتوں کو سن سکے، جس طرح وہ اپنے جاننے کو جانتا ہے، اسی طرح وہ اس سے بھی باخبر ہو کہ وہ کون سے امور ہیں جن کی بابت وہ زیادہ نہیں جانتا۔
مشورہ فرد کے لیے بھی خیر کا ذریعہ ہے اور سماج کے لیے بھی۔ وہ چھوٹے معاملات میں بھی مفید ہے اور بڑے معاملات میں بھی۔ وہ ہر مرد اور عورت کے لیے ہے، کوئی بھی مرد یا عورت اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مزید یہ کہ مشورہ صرف ایک دنیاوی عمل نہیں ہے؛ وہ ایک عبادت ہے۔
وہ ایک عبادت بھی ہے۔ مشورہ دنیا کے اعتبار سے رحمت ہے اور آخرت کے اعتبار سے ثواب۔ مشورے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سمجھ کے ساتھ دوسروں کی سمجھ کو بھی اپنے فیصلے میں شامل کر لے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 149۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.