خبر کی تحقیق: قرآن میں جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم یہ ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ " الحجرات 6: بہت سے انسان جب مل جل کر زندگی گزارتے ہیں تو ان کے درمیان طرح طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات سے خبریں بنتی ہیں، یہ خبریں لوگ بیان کرتے ہیں، اس طرح وہ پورے سماج میں پھیل جاتی ہیں۔
مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اگر کسی خبر کو صرف سن لینا کافی سمجھا جائے، اور لوگ ایک بار سنتے ہی اس کو بیان کرنے لگیں، تو تقریباً ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ خبر کی صورت بدل جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر واقعہ اگر ایک سادہ واقعہ تھا، تو اپنی آخری صورت میں پہنچ کر وہ بدلتے بدلتے ایک سنگین واقعہ بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تحقیق کا مزاج ہو۔ لوگ ایسا کریں کہ محض سن کر کسی خبر کو نہ مان لیں، اور نہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنا شروع کر دیں۔
لوگوں کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ وہ جب بھی کسی خبر، خاص طور پر بری خبر کو سنیں، تو اس کی پوری تحقیق کریں، ہر پہلو سے اس کی نوعیت اور واقعیت کو جانچیں۔ اس طرح ضروری تحقیق کر لینے کے بعد اپنی رائے بنائیں۔ اگر آپ کسی بری خبر کو سنتے ہی اس کو مان لیں، تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کی بنا پر آپ ایک انسان کے بارے میں غیر واقعی رائے قائم کر لیں گے، اور اس کو ایک ایسے جرم کا مجرم قرار دے دیں گے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بات کو جب اصل حقیقت کھلے گی تو آپ کو سخت شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔
صحیح سوچ کے لیے تحقیق لازمی طور پر ضروری ہے۔ جن لوگوں میں تحقیق کا مزاج نہ ہو، ان کے اندر صحیح سوچ اور درست فکر کا ارتقاء بھی نہیں ہو سکتا۔ تحقیق صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق کے بغیر بولنا ایک غیر سنجیدہ فعل ہے، اور اسی کے ساتھ غیر اسلامی بھی۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.