غصہ نہیں۔ قرآن میں مطلوب انسان کی جو صفتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ انہیں جب غصہ آتا ہے تو وہ غصے کو پی جاتے ہیں، اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ آلِ عمران 137۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو میرے لیے مفید ہو، اور وہ بات مختصر ہو تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو۔ سائل نے بار بار اپنا سوال دہرایا، آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ تم غصہ نہ کرو۔ يا رسول الله قل لي قولا ينفعني وقلل عليّ لعلي أعيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تغضب. فأعاد عليه حتى أعاد عليه مرارا كل ذلك يقول لا تغضب تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 405۔
فرد کی اصلاح اور سماج کی تعمیر دونوں کے لیے یہ ایک کلیدی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کے اندر غصے کو بھڑکا دیں۔ اب اگر آدمی ایسے منفی واقعات کا اثر لیتا رہے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ دنیا میں نہیں جی سکتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایک قسم کا اشتعال برپا رہے گا۔
اس کی یہ حالت اس کی صلاحیتوں کو کھا جائے گی۔ وہ اس قابل نہ رہے گا کہ اپنی جدوجہدِ حیات کا کوئی مثبت نقشہ بنا سکے۔ یہی معاملہ پورے سماج کا ہے۔ جس سماج کے لوگوں میں غصے کو کنٹرول کرنے کا مزاج نہ ہو، ایسے سماج میں سکون رخصت ہو جائے گا۔
لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیل جائے گی۔ ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی اور ایک دوسرے سے ہمدردی جیسی قدریں باقی نہ رہیں گی۔ جس سماج کا حال یہ ہو جائے، وہ سماج کبھی ترقی کا سفر طے نہیں کر سکتا۔ غصے کو روکنا سادہ طور پر صرف ایک عمل نہیں، وہ تمام دوسرے معاملات کی اصلاح کے لیے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 146۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.