"عافیت کا راز" حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کو تکلیف پہنچائے تو اللہ اس کو تکلیف پہنچائے گا، اور جو شخص کسی کو مشقت میں مبتلا کرے گا تو اللہ اس کو مشقت میں مبتلا کرے گا۔ مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَ شَاقَ اللَّهُ عَلَيْهِ مشکات المصابیح، جلد 3، صفحہ 1401۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی عمل ایک طرفہ نہیں، یہاں ہر عمل اپنا دو طرفہ انجام رکھتا ہے۔ آپ ایک گیند کو دیوار پر ماریں تو وہ دوبارہ آپ کی طرف لوٹے گا، آپ ایک گیند کو دیوار پر ماریں تو وہ دوبارہ آپ کی طرف لوٹے گی۔
آپ کسی کو گالی دیں تو گالی کے الفاظ جس طرح دوسرے شخص کے کان تک پہنچیں گے، اسی طرح وہ آپ کے کان میں بھی داخل ہوں گے۔ آپ کسی سے انتقام لیں تو وہ اور اس کی اولاد بھی اس انتقام کا انتقام لے گی۔ یہی معاملہ ہر عمل کا ہے۔ کوئی شخص جب کسی کے خلاف ایک عمل کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ فریقِ ثانی جس طرح اس عمل کا شکار ہوگا، اسی طرح خود عمل کرنے والے کو بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
یہی حقیقت مذکورہ حدیث میں بتائی گئی ہے۔ اس سنگین حقیقت کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی حال میں اس سے بچنے پر قادر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو عافیت میں رکھے۔
جو آدمی دوسروں کو تکلیف نہ دے، وہ اپنے آپ کو تکلیف میں پڑنے سے بچاتا ہے۔ جو آدمی دوسروں کو تنگی میں مبتلا نہ کرے، وہ خود بھی اس دنیا میں تنگی اور مشقت سے محفوظ رہے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص فطرت کے نظام سے آزاد ہو کر اپنی زندگی نہیں بنا سکتا۔ یہاں ہر آدمی کے لیے فطرت کے نقشے سے مطابقت ضروری ہے، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی۔
یہاں فطرت کے نقشے سے مطابقت کا نام کامیابی ہے، اور فطرت کے نقشے سے انحراف کا نام ناکامی۔ اسلام فطرت سے الگ کوئی طریقہ نہیں۔ اسلام دراصل فطرت ہی کے ابدی اصولوں کا انسانی زندگی پر انطباق ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 143۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.