Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Hasad

Urdu · 3 min

حسد حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ اس طرح جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے، اس طرح جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ إياكم والحسد، فإن الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب. ابو داؤد، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 3 صفحہ 1401: آگ لکڑی کی قاتل ہے، اس لیے لکڑی کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کو آگ سے بچانا پڑتا ہے۔

اسی طرح کچھ چیزیں انسانی جسم کے لیے مہلک ہیں۔ جسم کی صحت و عافیت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان مہلک چیزوں سے اس کو مکمل طور پر بچایا جائے۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان کی اندرونی شخصیت کا ہے۔ انسان کی روح، یا اس کے اندر کی شخصیت ہی، اصل انسان ہے۔

اس داخلی انسان کے لیے بھی کچھ چیزیں بے حد مہلک ہیں۔ وہ اس کو آگ کی طرح کھا جانے والی ہیں۔ اس لیے انسان کے اپنے فائدے کی بات ہے کہ وہ ان مہلک چیزوں سے اپنی شخصیت کو بچائے۔ وہ اپنے انسانی وجود کا محافظ بن جائے۔

ان مہلک چیزوں میں سب سے زیادہ مہلک چیز حسد ہے۔ جو انسان حسد کا شکار ہو جائے، وہ یقینی طور پر اپنی روحانی زندگی کا بھی خاتمہ کر لے گا۔ حسد کیا ہے؟ حسد یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے کو اپنے سے زیادہ دیکھے، تو وہ اس کو برداشت نہ کر سکے۔

وہ اس کے خلاف جلن میں مبتلا ہو جائے۔ اس قسم کی جلن، بلاشبہ، ایک طرفہ طور پر صرف حاسد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ وہ محسود کی بڑائی میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ موجودہ دنیا میں جب بھی کسی کو کسی قسم کی بڑائی ملتی ہے، تو وہ خدا کا ایک عطیہ ہوتی ہے۔

یہ دراصل خدا ہے جو اپنی مصلحت کے تحت کسی کو ایک چیز دیتا ہے اور کسی کو دوسری چیز۔ کسی کو کم دیتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ ایسی حالت میں کسی کی بڑائی پر حسد کرنا، خدا کے قائم کیے ہوئے فطری نظام کے خلاف لڑنا ہے۔ اس قسم کی لڑائی میں کوئی بھی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔

البتہ خدا یہ فیصلے کا اعتراف نہ کرنے کی بنا پر، وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 142۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.