نفسیاتی پیچیدگی سے پاک۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ایک آدمی سامنے سے گزرا، آپ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ شخص جنتی ہے۔ جو لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک صاحب بتاتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ شخص کون سا عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے پیغمبرِ اسلام نے اس کو جنتی بتایا۔
چنانچہ وہ اس آدمی کے گھر گئے، انہوں نے اس سے اجازت لے کر 3 دن تک اس کے یہاں قیام کیا۔ تیسرے دن جب وہ وہاں سے جانے لگا تو اس آدمی نے پوچھا کہ آپ کس لیے یہاں آئے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ واقعہ بتایا اور کہا کہ میں 3 دن تک تم کو دیکھتا رہا مگر میں نے تمہارے اندر کوئی عبادت یا عمل نہیں دیکھا جو عام مسلمانوں سے زیادہ ہو۔ اس آدمی نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جیسا کہ تم نے مجھے دیکھا، البتہ میرے اندر ایک چیز ہے اور شاید اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو۔
اور وہ یہ کہ میں اپنے اندر کسی کے خلاف کینہ نہیں پاتا۔ غير أني لا أجد في نفسي لأحد من المسلمين غشا. مسند احمد۔ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے شکایت ہو جاتی ہے۔
سماج میں رہتے ہوئے بے شکایت زندگی ممکن نہیں۔ کبھی کوئی شخص سخت الفاظ بول دیتا ہے، کبھی کوئی شخص آپ کی امیدوں کو پورا نہیں کرتا، کبھی کسی شخص سے آپ کو نقصان پہنچ جاتا ہے، کبھی کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جس سے آپ کی انا پر چوٹ پڑتی ہے یا آپ کا وقار مجروح ہوتا ہے وغیرہ۔ اس طرح کی تلخ یادیں مستقل طور پر آدمی کے حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں، ان کو مٹانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر آدمی کا امتحان ہو رہا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں کامیاب ہو کر وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنا سکتا ہے۔
اس امتحان میں کامیابی یہ ہے کہ آدمی ان تلخ یادوں کو بھلانے کی کوشش کرے، اور اگر وہ یاد آئیں تو ان کا اثر قبول کرنے سے انکار کر دے۔ اپنے منفی احساسات سے اوپر اٹھنے والا انسان ہی جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.