مالک پاکی۔ قرآن میں خدا پرست انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاکی حاصل کرے، اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو، مگر صرف اپنے خدائے برتر کی خوشنودی کے لیے؛ اور عنقریب وہ خوش ہو جائے گا۔ سورہ اللیل، آیت 18 تا 21۔ اسلام میں اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو صرف اپنے لیے خاص نہ کرے، بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو صرف اپنے اوپر خرچ کرنا، اور اس میں سے خدا کا اور انسان کا حصہ نہ نکالنا، اسلام میں سخت گناہ ہے۔ کوئی شخص اگر اپنا مال دوسرے کو اس لیے دے کہ اس نے اس کے اوپر احسان کیا تھا، تو یہ دینا اگرچہ کوئی برائی نہیں، مگر صرف اس قسم کے عطیے سے اسلامی تعلیم کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ احسان اتارنے کے لیے یا کسی اور جوابی فائدے کے لیے دینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جس کے لیے اسلام میں اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی آدمی جب اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کو دیتا ہے تو بظاہر وہ ایک غیر شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہوتا ہے، مگر اسلام کے مطابق اس کا اصل مقصد خود دینے والے کی اپنی اصلاح ہے۔
اس طرح وہ اپنے دل کو اور اپنی روح کو پاک کرتا ہے۔ مال کے ساتھ کئی اخلاقی برائیاں جڑی ہوئی ہیں، مثلاً بخل، طمع، اور احساس برتری وغیرہ۔ کوئی مال والا جب اپنے مال کو اللہ کے حکم کی بنا پر دوسروں کو دیتا ہے تو وہ ان برائیوں کو اپنے اندر سے نکالتا ہے۔ مال کو صرف اپنے لیے خاص کرنا گویا ان برائیوں کو اپنے اندر پرورش کرنا ہے۔
اور مال میں سے دوسروں کو دینا گویا اپنے آپ کو دھو کر ان برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ آدمی جب بلا معاوضہ اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے تو وہ اپنے اندر بخل کے جذبات کو کچلتا ہے۔ وہ مال سے محبت کا تعلق توڑتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو یہ سبق دیتا ہے کہ مال ضرورت کے لیے ہے، نہ کہ عزت اور شان بڑھانے کے لیے۔
مال کا دینا بیک وقت پانے والے کے لیے بھی مفید ہے اور دینے والے کے لیے بھی۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.