حسنِ معاملہ: قرآن میں نکاح و طلاق کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طلاق دو بار ہے، اس کے بعد یا تو خوش اسلوبی کے ساتھ رکھنا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔ البقرہ 229۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق نکاح و طلاق کے مسئلے سے ہے، مگر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق پوری زندگی سے ہو جاتا ہے۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے، اس بنا پر موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دو انسان یا زیادہ انسان باہم اکٹھا ہوتے ہیں، کبھی وقتی طور پر اور کبھی لمبی مدت کے لیے۔
ایسے حالات میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ مل کر رہنے کی مدت کو بھی اچھے انداز میں گزارا جائے، اور علیحدگی کے بعد بھی اس کو اچھے انداز میں بتایا جائے۔ جب بھی دو یا زیادہ آدمی باہم مل کر رہتے ہیں تو لازمی طور پر ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے مواقع بھی آتے ہیں۔ اس دنیا میں بے شکایت قسم کی اجتماعی زندگی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ جب تک وہ ساتھ رہ رہا ہو، اس وقت تک تو حالات کے دباؤ کی بنا پر بظاہر خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائے، مگر جب وہ جدا ہو تو اپنی جدائی کو معقول ثابت کرنے کے لیے واقعی یا غیر واقعی شکایتیں ادھر ادھر بیان کرنے لگے۔
ہر آدمی اپنے آپ کو سماج میں باعزت دیکھنا چاہتا ہے۔ اس بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اسی کوشش میں رہتا ہے کہ جن لوگوں کا ساتھ اس نے چھوڑا ہے، ان کی ایسی بری تصویر بنائے کہ لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ وہ لوگ اسی قابل تھے کہ ان کا ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ مگر اس قسم کی ہر کوشش گناہ ہے، خواہ وہ واقعے کے مطابق ہو یا واقعے کے خلاف۔ مومن وہ ہے جو اس وقت بھی درست بات کہے جب کہ وہ کسی سے راضی ہو، اور اس وقت بھی اس کے منہ سے درست بات نکلے جب کہ اس کے اور فریق ثانی کے درمیان ناراضی کی صورت پیدا ہو گئی ہو۔
مومن وہ ہے جو ہر حال میں حسنِ معاملے کا ثبوت دے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.