Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Husn-e-zann

Urdu · 3 min

حسنِ زن حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا گمان کرنا اچھی عبادت میں سے ہے۔ حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ مشکات المصابیح، جلد 3، صفحہ 1403۔ دنیا کی زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی دوسرے کے بارے میں بدگمان ہو جائے۔ یہ بدگمانی کبھی اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی مذکورہ شخص کے بارے میں پہلے سے تعصب کا شکار ہوتا ہے۔

وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ آدمی ایک برا آدمی ہے، اس لیے اس سے یہی توقع ہے کہ وہ غلط بات کرے یا غلط کام میں ملوث ہو۔ بدگمانی کی دوسری بڑی وجہ معلومات کی کمی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے کے حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف ناقص معلومات ہوتی ہیں۔

ان ناقص معلومات کی بنا پر وہ معاملے کو صحیح رخ کے ساتھ نہیں دیکھ پاتا اور غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ زندگی کی اس صورتحال نے رائے قائم کرنے کے معاملے کو ایک مشکل معاملہ بنا دیا ہے۔ ہر آدمی اس نازک صورتحال میں مبتلا ہے کہ اگر وہ اپنی ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہو یا ناقص معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرے تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ سخت ناانصافی کرے گا۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایک طرف اپنے آپ کو متعصبانہ فکر سے خالی کرے اور دوسری طرف رائے قائم کرنے سے پہلے معاملے سے متعلق پوری واقفیت حاصل کرے۔

اس چیز نے کسی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے کے معاملے کو ایک جہاد کا معاملہ بنا دیا ہے۔ یہاں حسنِ زن کے لیے ایک جہادی عمل درکار ہے۔ حسنِ زن کے اسی پہلو نے حسنِ زن کو ایک اعلیٰ عبادت بنا دیا ہے۔ حسنِ زن کوئی سادہ بات نہیں۔

یہ کسی کے بارے میں برے خیالات کو اپنے ذہن سے نکال کر، اس کے بجائے اچھے خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دینا ہے۔ یہ ایک داخلی جہاد ہے، اسی لیے اس کا بہت بڑا ثواب اسلام میں رکھا گیا ہے۔ اسلامِ تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.