کائناتی اخلاق کائنات انسانی اخلاقیات کا ماڈل ہے؛ ہمارے پیدا کرنے والے کو ہم سے جو اخلاقی رویہ مطلوب ہے، اس کو اس نے کائنات میں وسیع پیمانے پر، انتہائی معیاری انداز میں قائم کر رکھا ہے تاکہ انسان اس کو دیکھ کر نصیحت لے اور اس اخلاقی روش کو اپنی زندگی میں اپنا لے۔ آسمان اپنی بے پناہ وسعتوں کے باوجود مکمل طور پر خاموش ہے؛ اس طرح وہ انسان کو بتا رہا ہے کہ بولنے سے زیادہ چپ رہنے والے بنو، بتانے سے زیادہ سیکھنے والے بنو۔ تمہیں خواہ کتنی ہی زیادہ عظمت حاصل ہو جائے، مگر تم اس طرح رہو جیسے تمہیں کوئی عظمت حاصل نہیں۔ سورج روشنی اور حرارت کا عطا خزانہ ہے؛ وہ ہر آن زمین کو روشنی اور حرارت سپلائی کر رہا ہے، مگر وہ کسی سے اس کی قیمت نہیں مانگتا۔
یہ اس بات کا سبق ہے کہ انسان ایک طرفہ طور پر فائدہ پہنچانے والا بنے، وہ لوگوں کو دیتا رہے خواہ اسے اس کی کوئی قیمت نہ مل رہی ہو۔ ہوا ہر آن سرگرم ہے؛ وہ ہر تنگ اور کشادہ جگہ سے گزر رہی ہے، مگر وہ کسی سے ٹکراتی نہیں۔ اس طرح وہ پیغام دے رہی ہے کہ اے انسان، تم اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرو کہ دوسروں کے ساتھ تمہارا ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ تمہاری سرگرمیاں دوسروں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والی نہ ہوں۔
درخت زمین سے ایک پودے کی صورت میں نکلتا ہے، اور پھر بڑا ہو کر پورا درخت بن جاتا ہے؛ اس سے لوگوں کو سایہ، ہریالی، پھول اور پھل اور دوسری چیزیں ملتی ہیں۔ وہ مٹی اور پانی جیسی چیزوں کو اپنی غذا بنا کر اس کو ایک ہرے بھرے درخت کی صورت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ بتا رہا ہے کہ انسان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ غصے کو معافی میں تبدیل کرے؛ وہ منفی جذبات کو مثبت جذبات کی طرف موڑ دے۔
اس کو کسی کی طرف سے برائی کا تجربہ ہو، تب بھی وہ اس کی طرف بھلائی کا تحفہ لوٹائے۔ یہ ہے انسانی اخلاقیات کا وہ ماڈل جس کا مظاہرہ کائنات میں ہر آن کیا جا رہا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اس کائناتی نمونے کو اختیار کرے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.