فطرت کا نظام فطرت کا نظام بے اجرت نفع بخشی کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز دوسروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے، بغیر اس کے کہ وہ دوسروں سے اس کی کوئی قیمت وصول کرے۔ بغیر اس کے کہ وہ دوسروں کے اوپر اس کا کوئی اظہار کرے۔ یہاں فرائض کی انجام دہی ہے، مگر حقوق کا کوئی مطالبہ نہیں۔
یہاں دوسروں کی رعایت کرنا ہے، مگر اپنی بڑائی کا کوئی مظاہرہ نہیں۔ سورج ساری دنیا کو مسلسل روشنی اور حرارت دے رہا ہے، مگر اس کی یہ تمام خدمت مکمل طور پر ایک طرفہ ہے، نہ کہ دو طرفہ۔ ہوا زمین کے ہر گوشے میں ہر لمحہ آکسیجن سپلائی کر رہی ہے، جس پر زندگیوں کا انحصار ہے، مگر اس نے کبھی اپنا کوئی بل پیش نہیں کیا۔ پانی کا نظام عالمی سطح پر قائم ہے، جس کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں، مگر یہ سب کچھ کسی معاوضے کے بغیر ہو رہا ہے۔
درخت سایہ اور پھول اور پھل دیتے ہیں، مگر وہ اس کی کوئی قیمت نہیں مانگتے۔ زمین ہر قسم کی مفید فصل اگاتی ہے، جو انسان اور حیوان کے لیے جینے کا سہارا ہے، مگر زمین اپنا یہ سارا کام خدمت گزاری کے اصول پر کرتی ہے، نہ کہ اجرت طلبی کے اصول پر۔ چڑیاں ہماری فضاؤں میں ہر طرف پرکشش نغمے بکھیر رہی ہیں، مگر وہ ہم سے کسی تعریف و ستائش کی امید نہیں رکھتیں۔ انسان بھی اسی عالم فطرت کا ایک حصہ ہے۔
انسان کو بھی وہی طریقہ اختیار کرنا ہے جو بقیہ دنیا کی تمام چیزیں وسیع پیمانے پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے، وہ ہمیشہ بہت سے لوگوں کے درمیان رہتا ہے۔ بار بار اس کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پڑتا ہے۔
اب انسان کے لیے صحیح اور فطری طریقہ صرف یہ ہے کہ جب بھی اس کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پیش آئے تو ہر ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچے۔ دو انسانوں کا ملنا دو پتھروں کا ملنا نہ بنے، بلکہ وہ دو ایسی ہستیوں کا ملنا بنے جن میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے رحمت و نعمت کا نمونہ بن جائے۔ فطرت بہترین گائیڈ ہے۔ فطرت بہترین گائیڈ ہے، بشرطیکہ اس میں خلل نہ ڈالا جائے۔
اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.