برتر ہاتھ ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مال بڑا سرسبز اور شیریں ہے۔ جو اس کو سخی دل کے ساتھ لے تو اس کے لیے وہ برکت کا ذریعہ ہوگا، اور جس نے اس کو حرص کے جذبے کے تحت لیا تو اس میں اس کے لیے برکت نہیں ہوگی۔ اور وہ اس آدمی کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ إن هذا المال خضرٌ حلوٌ، فمن أخذه بسخاوة نفسٍ بورك له فيه، ومن أخذه بإشراف نفسٍ لم يبارك له فيه.
وكان كالذي يأكل ولا يشبع، واليد العليا خيرٌ من اليد السفلى. فتح الباری، جلد 5، صفحہ 445۔ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پانے والے کے مقابلے میں دینے والے کا درجہ زیادہ ہے۔ اسلام ہر آدمی کے اندر یہ اسپرٹ ابھارتا ہے کہ وہ جس سماج میں ہو وہاں وہ اس طرح رہے کہ اس کے ذریعے سے دوسروں کو کچھ نہ کچھ مل رہا ہو۔
دوسروں سے لے کر جینے کا طریقہ اسلام میں پسندیدہ نہیں۔ یہ دینا اور لینا کوئی سادہ بات نہیں، اس کا تعلق پوری اخلاقیات سے جڑا ہوا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے اندر دینے کا مزاج ہو، وہاں مثبت اخلاقیات کو فروغ حاصل ہوگا۔ ایسے ماحول میں باہمی محبت، ایک دوسرے کی رعایت، سماجی خدمت، آپس میں خیرخواہی، آپس میں برادرانہ تعلقات جیسی قدروں کا فروغ حاصل ہوگا۔
پورا سماج ایک خاندان کی مانند بن جائے گا، جہاں کوئی کسی کو غیر نہ سمجھے، بلکہ ہر ایک دوسرے کو اپنے قریبی کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس کے برعکس، جس سماج میں لینے اور صرف اپنے لیے سمیٹنے کا مزاج ہو، وہاں منفی اخلاقیات کو فروغ حاصل ہوگا۔ ایسے سماج میں لوگ غیروں اور اجنبیوں کی طرح رہیں گے، وہاں باہمی اعتماد کی فضا نہ ہوگی، وہاں انسانی خیرخواہی کے بجائے حیوانی خودغرضی کا دور دورہ ہوگا۔ مطلوب انسانی سماج وہ ہے جس کے افراد میں دینے کی اسپرٹ پائی جائے۔
جس سماج کے افراد میں صرف لینے کا جذبہ ہو، وہ فطرت کے نقشے کے خلاف ہے۔ ایسا سماج کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 135۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.