Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Kharch se izaafa

Urdu · 4 min

خرچ سے اضافہ: ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر روز جب کے بندے صبح کرتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے اترتے ہیں، ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ، خرچ کرنے والے کو اس کا بدل دے، اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ، مال روکنے والے کا مال ضائع کر دے۔ ما من يومٍ يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما: اللهم أعط منفقًا خلفًا، ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكًا تلفًا. فتح الباری، جلد 3، صفحہ 357۔ اس حدیث میں دراصل فطرت کا وہ نظام بتایا گیا ہے جس کے مطابق خدا نے اس دنیا کو بنایا ہے۔

اس دنیا میں کامیابی اس کے لیے ہے جو نظامِ فطرت سے مطابقت کرے، جو اس فطری نظام سے مطابقت کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا بنایا ہوا وہ فطری نقشہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی اپنے کمائے ہوئے مال کو ذاتی ملکیت نہ سمجھ لے، بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے تاکہ وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر سکے۔ ایسے افراد والا سماج خوب فروغ پائے گا، اس کے اندر مثبت قدریں ہر طرف پھیلیں گی۔ ایسے لوگوں کے ذریعے جو سماج بنے گا، وہ گویا ایک ہرا بھرا باغ ہوگا۔

وہاں کے انسانوں میں پھول کی مہک اور پھل کی مٹھاس ہوگی۔ اس طرح کے سماج میں ہر ایک کو اس کا حصہ مل رہا ہوگا۔ وہاں دینے والے کو بھی اس کا دیا ہوا مختلف صورتوں میں اس کی طرف لوٹ رہا ہوگا، کبھی براہِ راست انداز میں اور کبھی بالواسطہ انداز میں۔ اس کے برعکس معاملہ اس سماج کا ہے جہاں ہر مال والا اپنے مال کو خود اپنے ہی پاس روک کر رکھے۔

ایسے سماج میں لوگ ایک دوسرے سے بے تعلق ہوں گے۔ وہاں کا حال یہ ہوگا کہ جس کو نہیں ملا ہے وہ اس پر حسد کرے گا جس کو ملا ہوا ہے۔ وہاں ہر مال والا صرف اپنی ذات کے دائرے میں جی رہا ہوگا۔ سماج کا مجموعی اعتماد اس کو حاصل نہ ہوگا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا سماج کانٹوں سے بھری ہوئی جھاڑی کی مانند بن جائے گا۔ وہاں مال والے لوگ بھی اسی طرح سکون اور چین سے محروم ہوں گے جس طرح کے بے مال والے لوگ۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.