Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Takleef door karna

Urdu · 4 min

تکلیف دور کرنا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الإيمان بضع وسبعون شعبة، فأفضلها قول لا إله إلا الله، وأدناها إماتة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان." یعنی ایمان کے 70 سے زیادہ شعبے ہیں، اس کا سب سے افضل شعبہ یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس کا ادنیٰ درجہ راستے سے تکلیف کی چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے، مشکات المصابیح جلد 1 صفحہ 10۔ ایمان آدمی کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے، اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایسے آدمی کے اندر دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کو مصیبت میں دیکھے اور وہ اس کی مدد نہ کرے، یہاں تک کہ اگر وہ راستے میں کوئی پتھر یا کانٹے جیسی چیز دیکھتا ہے تو راستے سے ہٹائے بغیر اس کو چین نہیں آتا۔ کیونکہ ایسی حالت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس راستے سے گزرے اور اس کو تکلیف پہنچ جائے۔ زندگی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے بارے میں سوچے، اس کو صرف اپنے آرام اور تکلیف کی فکر ہو۔ اس کا اپنا معاملہ درست ہو جائے تو اس کے بعد اس کو کسی اور کی پرواہ باقی نہ رہے۔

مگر ایسا انسان حقیقی انسان نہیں، وہ اس انسانی شرافت سے خالی ہے جو فطرت کے اعتبار سے اس سے مطلوب ہے۔ حقیقی انسان وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف پر بھی اسی طرح تڑپے جس طرح وہ اپنی تکلیف پر تڑپتا ہے۔ وہ دوسروں کی مصیبت کو دور کرنے کے لیے بھی اسی طرح آمادہ رہتا ہو جس طرح وہ اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے معاملے کو اپنا معاملہ سمجھے۔

وہ دوسروں کو خوش دیکھ کر خوش ہوتا ہو، اور وہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر درد مند ہو جائے۔ انسان اور پتھر میں جو چیز فرق کرتی ہے وہ حساسیت ہے۔ پتھر بے حس ہوتا ہے اور انسان حساس۔ انسان اگر حساسیت کھو دے تو اس میں اور پتھر میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 133۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.