عمومی خیر خواہی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الدين النصيحة، إن الدين النصيحة، إن الدين النصيحة. قالوا: لمن؟ يا رسول الله. قال: لله وکتابه ورسوله وأئمة المؤمنين وأمتهم، وأئمة المسلمين وأمتهم.
سنن ابی داؤد، جلد 4، صفحہ 288۔ یعنی آپ نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے، دین خیر خواہی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کس کے لیے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اور اس کی کتاب کے لیے، اور اس کے رسول کے لیے، اور مومنین کے امیر کے لیے، اور ان کے عام لوگوں کے لیے، اور مسلمین کے امیر کے لیے، اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔
کسی آدمی کے سینے میں حقیقی دین آنے کے بعد، اس کے اندر لازمی طور پر انسانی خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح پانی میں شکر ڈالنے کے بعد پانی کے اندر مٹھاس کا ذائقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کے اندر دین ہوگا، اس کے اندر لازمی طور پر خیر خواہی بھی موجود ہوگی۔ جو دل انسانی خیر خواہی سے خالی ہو، یقینی طور پر وہ دین سے بھی خالی ہوگا۔ اس خیر خواہی کے بے شمار پہلو ہیں۔
آپ جب کسی کو غلط بات بولتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں، تو اس وقت خیر خواہی یہ ہوگی کہ اس کے پاس پہنچ کر نرمی اور شفقت کے انداز میں اس کو سمجھایا جائے، پرسوز کلام اور سنجیدہ دلائل کے ذریعے یہ کوشش کی جائے کہ وہ اپنے قول و فعل کو درست کر لے اور غلط روش سے باز آئے۔ ایک انسان وہ ہے جو دوسروں کو اس نظر سے دیکھے کہ وہ اس سے اپنے لیے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایسا انسان خدا کا مطلوب انسان نہیں۔ وہ فطرت کے نقشے میں بے جگہ ہے۔
وہ اس امتحان میں ناکام ہو گیا جس کے لیے خدا نے اس کو موجودہ دنیا میں رکھا تھا۔ وہ اس امتحان میں ناکام ہو گیا جس کے لیے خدا نے اس کو موجودہ دنیا میں رکھا تھا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو لوگوں کی اس نظر سے دیکھے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو لوگوں کو اس نظر سے دیکھے کہ وہ انہیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
ایسے انسان کی تسکین اس میں ہوگی کہ وہ کسی پہلو سے دوسروں کے کام آ سکے، اس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ حاصل ہو جائے۔ یہی وہ انسان ہے جو خدائی آزمائش میں کامیاب اترا۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.