پڑوسی کا حق؟ اسلام میں پڑوسی کا حق ادا کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرے۔ من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم جاره.
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہے جس کی ایذاؤں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ لا يؤمن الذي لا يأمن جاره بوائقه. کسی انسان کا سب سے پہلا سابقہ اس کے پڑوسی سے پڑتا ہے۔ اس لیے کسی انسان کی سب سے پہلی آزمائش بھی اس کے پڑوسی کے معاملے میں ہوتی ہے۔
کوئی انسان اگر برا ہے تو اس کے پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بھی برے ہوں گے۔ اور اگر کوئی انسان اچھا ہے تو اس کے پڑوسیوں سے اس کے تعلقات بھی اچھے ہوں گے۔ کسی آدمی کی انسانیت کی پہچان یہ نہیں ہے کہ اس کا معاملہ دور کے لوگوں کے ساتھ کیسا ہے۔ بلکہ اس کی انسانیت کی اصل پہچان یہ ہے کہ اپنے قریب کے لوگوں کے ساتھ وہ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔
اور اس معاملے میں پڑوسی بلاشبہ کسی آدمی کا سب سے پہلا قریبی انسان ہے۔ قریب ہونے کی وجہ سے آپ کے ہر عمل کا اثر پڑوسی تک پہنچتا ہے۔ اگر آپ اپنے گھر میں شور کریں تو پڑوسی کے کان تک اس کی آواز پہنچے گی۔ اگر آپ اپنے دروازے پر دھواں کریں تو آپ کا دھواں بھی پڑوسی کے گھر میں داخل ہوگا۔
اگر آپ اپنے گھر کا کوڑا باہر پھینکیں تو اس کا بھی تلخ تجربہ آپ کے پڑوسی کو بھگتنا ہوگا۔ اس طرح آپ کے ہر اچھے یا برے عمل کا اثر پڑوسی تک پہنچتا رہتا ہے۔ وہ آپ کے پھول کا بھی تجربہ کرتا ہے اور آپ کے کانٹے کا بھی۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ پڑوسی کے معاملے میں بے حد محتاط رہے۔
وہ پڑوس کے لوگوں کا اسی طرح پاس و لحاظ کرے جس طرح وہ خود اپنے گھر والوں کا پاس و لحاظ کرتا ہے۔ درخت کا پڑوسی درخت کے سائے سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح ایک حقیقی انسان کے فیض سے اس کے پڑوسی کا محروم رہنا ممکن نہیں۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 131۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.