عمومی شفقت ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے؛ صحیح البخاری میں بھی وہ کئی باب کے تحت نقل کی گئی ہے۔ باب رحمة الناس والبحائم یعنی انسانوں اور حیوانوں کے ساتھ رحمت کے تحت، وہ روایت اس طرح بیان ہوئی ہے: ایک شخص کسی راستے میں چل رہا تھا، اس کو سخت پیاس لگی، پھر اس نے ایک کنواں دیکھا، وہ اس میں اترا اور اس سے پانی پیا۔ پھر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا ہے، اور پیاس کی وجہ سے تر مٹی کو کھا رہا ہے۔ آدمی نے کہا کہ یہ کتا بھی اسی حالت سے دوچار ہے جس حالت سے میں دوچار تھا۔
پھر وہ آدمی دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے خف کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ سے پکڑ کر باہر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ تو اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کر لیا اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہمارے لیے حیوانوں میں بھی اجر ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ہر ذی روح میں تمہارے لیے اجر ہے۔
فتح الباری، جلد 10، صفحہ 452: آدمی کے جسم کو جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو فطرت اس کو اندر سے پیاس کا احساس دلاتی ہے تاکہ وہ پانی حاصل کرے اور جسم میں پانی پہنچا کر اس کی ضرورت پوری کرے۔ یہی معاملہ بھوک لگنے یا ٹھنڈک محسوس ہونے کا ہے۔ یہ گویا فطرت کی پکار ہے جو آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کھانا کھا کر یا گرم کپڑا اوڑھ کر اپنے جسم کی ضرورت پوری کرے۔ یہ احساسات حیوانات یہ احساسات حیوان کے اندر بھی ہیں، مگر حیوانات صرف اپنی ذات کی حد تک ان احساسات کی تکمیل سے واقف ہیں۔
مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ان احساسات کی توسیع کرے۔ وہ جس طرح اپنی ضرورت کو محسوس کر کے اس کو پورا کرنے کا انتظام کرتا ہے، اسی طرح وہ دوسرے انسانوں اور حیوانوں کی ضرورت کو بھی جانے اور ہر ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اپنی ضرورت کو پورا کرنا صرف اپنے فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے، مگر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرنا ایک عبادت ہے اور اعلیٰ ترین انسان شرف۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 130۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.