جاری فائدہ: مسند احمد کی ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص ایک درخت لگائے، اور اس کے بعد وہ مر جائے، پھر یہ درخت بڑا ہو کر پھل لائے، جس کو انسان اور چڑیاں کھائیں، تو یہ اس کے لیے ایک مستقل ثواب ہوگا، جب تک کہ خدا کی مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتی رہے۔ كَانَ لَهُ أَجْرٌ جَارَىٰ مَنْ تَفْعَىٰ بِهِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ اسلام میں نفع رسانی کا ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی ایک مفید عمل کرے، مثلاً وہ درخت لگائے یا پل بنائے، اور اس کے بعد وہ مر جائے، مگر اس کی قائم کی ہوئی چیز اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ کر انسانوں کو فائدہ پہنچاتی رہے، تو اس قسم کی صدقہ جاریہ کی بے حد اہمیت ہے، اور اس کام میں اس کا بہت بڑا ثواب بتایا گیا ہے۔ صدقہ جاریہ درحقیقت انسانی شرافت کے ایک اعلیٰ پہلو کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ انسانی شرافت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے کہ آدمی یہ چاہے کہ وہ کوئی ایسا کام کر جائے جس کا فائدہ انسانی نسلوں کو اس وقت بھی پہنچتا رہے جبکہ وہ آدمی اپنی عمر پوری کر کے دنیا سے چلا گیا ہو۔ نفع رسانی یا فائدہ بخشی ایک اعلیٰ ترین انسانی جذبہ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ جذبہ زندہ ہو، وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتا کہ براہ راست طور پر۔ جس آدمی کے اندر یہ جذبہ زندہ ہو، وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتا کہ براہ راست طور پر جب کسی انسان سے اس کا سابقہ پڑے تو وہ اس کو کچھ فائدہ پہنچا دے، بلکہ ایسے آدمی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو عمومی طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہو، حتیٰ کہ اس کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کی موت بھی انسانیت کے لیے اس کی نفع رسانی کا سلسلہ منقطع نہ کر سکے۔
اس کی نفع بخشی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری رہے جبکہ وہ خود اس کو دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود بھی نہ ہو۔ دوسروں کے لیے مفید بننا خود اپنی انسانیت کی تکمیل ہے۔ دوسروں کو دے کر آدمی خود اپنے لیے اس سے زیادہ پا لیتا ہے جتنا کہ اس نے دوسروں کو دیا تھا۔ یہ عمل اپنے اور غیر کے تصور کو مٹاتا ہے، اور اپنے اور غیر کے تصور کو مٹا کر وحدت انسانیت کا ماحول بنانا بلاشبہ سب سے بڑی انسانی خدمت ہے۔
اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 129۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.