کھانا کھلانا۔ خُران میں مطلوب انسان کی جو تصویر ہے، اس کا ایک پہلو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ اس کی محبت میں مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ الدہر 8۔ اسی طرح خُران میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب اہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا کہ کیا چیز تم کو جہنم میں لے آئی، تو اس کی ایک وجہ وہ یہ بتائیں گے کہ ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
المدثر 44۔ اس طرح کی آیتوں میں "اطعام" یعنی کھانا کھلانا کا لفظ علامتی معنی میں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مطابق ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرے کسی انسان کو بھوک پیاس کی حالت میں دیکھے تو وہ اس کی بھوک اور پیاس مٹائے، وہ اس کی حاجتوں کو پورا کرے۔ دوسروں کو کھلانا یا ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا، بلاشبہ، بہت بڑا عمل ہے۔ خود کمانا اور خود کھانا اگر حیوانیت ہے تو کمانے کے بعد خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا وہ چیز ہے جو کسی انسان کو حقیقی انسانیت کے درجے میں پہنچاتا ہے۔
جس سماج میں لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ اپنی کمائی میں دوسروں کا حصہ سمجھیں، وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ دوسروں کی ضرورت بھی پوری کریں، ایسا سماج سکون کا سماج ہوگا۔ ایسے سماج میں ہر انسان عافیت کی زندگی گزارے گا۔ ایسا سماج ایک بڑے خاندان کے مانند ہوگا، جس کے ہر فرد کے دل میں دوسرے افراد کے لیے اسی طرح محبت کے جذبات ہوں گے جس طرح خود اپنے خاندان کے افراد کے لیے ہوتے ہیں۔ جو لوگ دنیا میں ایسا معاشرہ بنائیں، وہ گویا خدا کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں جنت کے معاشرے میں بسائے جائیں گے، کیونکہ انہوں نے دنیا میں جنتی معاشرے کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی تھی۔ خود کھانے میں اگر دنیا کا فائدہ ہے تو دوسروں کو کھلانے میں آخرت کا فائدہ۔ خود کھانا اگر وقتی خوشی کا سبب ہے تو دوسروں کو کھلانا مستقل خوشی کا سبب۔ خود کھانا اگر صرف کھانا ہے تو دوسروں کو کھلانا اعلیٰ انسانیت ہے۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.