کمزوروں کی مدد؟ اسلام میں اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس مال ہے وہ اس کو صرف اپنی ذات کے لیے خاص نہ کر لیں، بلکہ اس میں سے دوسروں کے اوپر بھی خرچ کریں۔ اس کا سبب ایک حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم کو جو مدد ملتی ہے اور جو رزق تمہارے پاس پہنچتا ہے، وہ تمہارے کمزوروں ہی کے سبب سے ہوتا ہے۔ هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَحُونَ إِلَّا بِزُعَفَائِكُمْ فتح الباری، جلد 6، صفحہ 104۔
یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ انسانوں میں کسی کے پاس زیادہ مال ہوتا ہے اور کسی کے پاس کم۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب فطرت کا وہ نظام ہے جو خدا نے اپنی مصلحت کے تحت قائم کیا ہے۔ یہ دنیا آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔
اس امتحانی مصلحت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کے درمیان فرق ہو۔ یہ دراصل فرق ہی ہے جو انسانی سماج میں امتحان کے حالات پیدا کرتا ہے۔ اگر انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق نہ ہوں تو آزمائش والے اسباب کا پیدا ہونا بھی ختم ہو جائے۔ اسی میں سے ایک فرق یہ ہے کہ کوئی انسان پیدائشی طور پر قوی ہوتا ہے اور کوئی انسان ضعیف، ذہنی اعتبار سے بھی اور جسمانی اعتبار سے بھی۔
اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی برتر صلاحیت کے زور پر زیادہ مال اکٹھا کر لیتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنی کمتر صلاحیت کی بنا پر زیادہ مال حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ گویا کہ کسی کے پاس زیادہ مال ہونا دوسروں کے ضعف کے سبب سے ہوتا ہے۔ اگر سارے ہی لوگ قوی ہوں تو کسی ایک کے پاس زیادہ مال اکٹھا نہیں ہو سکتا۔ اب صاحبِ مال کو چاہیے کہ وہ اس فطری صورتحال کا اعتراف کرے۔
وہ اپنے زیادہ مال کو خود اپنی صلاحیت کا نتیجہ نہ سمجھے، بلکہ اس کو خدائی انتظام کا نتیجہ سمجھے۔ صاحبِ مال کے اندر اگر یہ ذہن ہو تو وہ اپنے مال کو صرف اپنا مال نہیں سمجھے گا، بلکہ اس کا خیال یہ ہوگا کہ یہ دراصل دوسروں کا حصہ ہے جو اتفاقاً میرے پاس آ گیا۔ یہ جذبہ اس کو مجبور کرے گا کہ جو کچھ دوسروں کا ہے، اس کو وہ دوسروں کی طرف لوٹا دے۔ یہی اسلام ہے اور یہی صحیح انسانی سپرٹ ہے۔
اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.