صدقہ اسپرٹ: اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر آدمی کے اندر صدقے کی عمومی اسپرٹ موجود ہو۔ وہ ہر حال میں اور ہر موقع پر صدقہ دینے والا بن جائے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے جو صحیح البخاری میں آئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان کے اوپر صدقہ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ کچھ نہ پائے؟
آپ نے فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ وہ محنت کر کے کمائے، پھر اس میں سے کچھ اپنے لیے لے، اور کچھ دوسرے کے اوپر صدقہ کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر اس میں یہ استطاعت بھی نہ ہو؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ضرورت مند کی خدمت کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟
آپ نے فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ وہ خیر کی نصیحت کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا کہ پھر اس کو چاہیے کہ وہ شر سے باز رہے، کیونکہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔ فتح الباری، جلد 10، صفحہ 462۔
صدقہ ایک وقتی عمل نہیں، بلکہ وہ ایک عمومی اسپرٹ ہے۔ جب ایک آدمی کے اندر صدقے کی یہ اسپرٹ پیدا ہو جائے تو اس کا اظہار ہر وقت ہوتا رہے گا۔ جو آدمی صدقہ اسپرٹ کا حامل ہو، وہ کسی بھی حال میں صدقہ والے عمل سے خالی نہیں ہو سکتا۔ صدقے کی اصل دوسرے انسانوں کے لیے خیرخواہی ہے۔
جب کسی آدمی کے اندر یہ روح بیدار ہو جاتی ہے تو وہ اپنے اندرونی جذبے کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا ہے کرے۔ اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال میں سے دوسروں کی مدد کرے گا۔ اگر اس کے پاس کوئی مال موجود نہیں تو وہ اپنے ہاتھ پاؤں کو استعمال کر کے کمائے گا، اور پھر اس میں سے کچھ اپنی ضرورت میں خرچ کرے گا اور کچھ دوسروں کو دے گا۔ اور اگر اس قسم کا مال بھی اس کے پاس نہ ہو تو وہ اپنے جسم و دماغ سے دوسروں کی خدمت کرے گا، مثلاً راستے سے کانٹا ہٹانا یا کسی مسافر کو راستہ بتانا۔
اسی طرح اس کا یہ جذبہ بوقت ضرورت نصیحت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ وہ دوسروں کی اصلاح کے لیے انہیں میٹھے الفاظ کا تحفہ دے گا۔ اس صدقے کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی ایسے کام سے اپنے آپ کو بچائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے والی ہو۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.