نفع بخشی قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو اس طرح بتایا گیا ہے: خدا نے آسمان سے پانی اتارا، پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے، پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے، اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔
اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔ الرعد 17 قرآن کی اس آیت میں فطرت کے دو سبق خاموش واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے، تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتا ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے ان کو آگ پر تپاتے ہیں، تو ان کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آ جاتا ہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیں، فضا میں اڑ جاتا ہے، اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر پوری طرح باقی رہتے ہیں، جو کہ انسان کے لیے مفید ہیں۔
یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں کامیابی اور بقا کا فطری اصول کیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس فرد یا قوم کو بقا و ثبات حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت کرے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے، اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی باعزت جگہ نہیں۔ صرف اپنی ذات کے لیے جینا فطرت کی اسکیم کے خلاف ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ لازمی طور پر دوسروں کے بھی کام آئے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ فطرت کے نقشے میں بے جگہ ہو کر رہ جائے گا۔ کائنات کا مطلوب انسان وہ ہے جو ایک نفع بخش انسان ہو۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.