دوسروں کا حق؟ قرآن میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔ ان لوگوں کی لازمی صفات میں سے ایک صفت اس طرح بتائی گئی ہے: "اور وہ لوگ جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا معین حق ہے۔ " المعارج 24:25۔
موجودہ دنیا میں ہر انسان بہت سے اجتماعی رشتوں سے وابستہ ہے؛ ایک طرف وہ وسیع تر عالمِ فطرت سے جڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف انسانی سماعت سے۔ آدمی اپنی زندگی میں جو کچھ کرتا ہے، اس میں ان سارے عناصر کا لازمی حصہ شامل رہتا ہے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے ماحول سے آزاد ہو کر محض اپنی ذاتی بنیاد پر کوئی قابلِ قدر چیز حاصل کر سکے۔ عالمِ فطرت یعنی سورج، ہوا، پانی وغیرہ سے آدمی جو ان گنت فائدے حاصل کرتا ہے، اس کا بھی ایک حق ہے۔
اور اس کا حق یہ ہے کہ آدمی دل سے خالقِ کائنات کا شکر ادا کرے۔ شکر کا یہ احساس اتنا قوی ہو کہ خالق کی یاد اس کے روز و شب کے لمحات میں مستقل طور پر شامل ہو جائے۔ جو لوگ خدا کا یہ حق ادا کریں، وہی لوگ جائز طور پر خدا کی اس دنیا میں رہنے کے مستحق ہیں۔ دوسرا حق وہ ہے جو سماج کی نسبت سے ہر انسان کے اوپر عائد ہوتا ہے۔
اس دنیا میں آدمی جو مال حاصل کرتا ہے، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، ہر حال میں اس کے اندر سماج کا ایک حصہ شامل رہتا ہے۔ کسی بھی انسان کا حاصل کیا ہوا مال صرف اس کی ذاتی محنت یا لیاقت کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ پورے سماج کا مشترکہ تیہ ہے۔ یہ انسانی شرافت کا تقاضا ہے کہ اس حقیقتِ واقعے کا اعتراف کیا جائے۔ اس اعتراف کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے حاصل کیے ہوئے مال کا ایک حصہ مستقل طور پر سائل اور محروم کو دیا جائے، یعنی ان لوگوں کو جو اپنی ضرورت کو سوال کی صورت میں پیش کریں۔
اور ان لوگوں کو بھی جو سوال تو نہ کریں مگر ان کے احوال بتا رہے ہوں کہ وہ مالی کمی کا شکار ہیں، اور اس قابل ہیں کہ انہیں مالی سہارا پہنچایا جائے۔ دوسروں کا حق ادا کرنے کے بعد ہی کوئی شخص اس قابل بنتا ہے کہ اس کو اس کا حق دیا جائے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 124۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.