زندہ ملاقات ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: «من زار رجلًا ولم يذق منه شيئًا فكأنه زار ميتًا». جو شخص کسی سے ملا اور اس نے اس سے کچھ چکھا نہیں، تو گویا کہ وہ مردے سے ملا۔ اس حدیث کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے ملاقات کرے تو جس سے اس نے ملاقات کی ہے وہ اس کی کچھ تواضع کرے، خواہ یہ تواضع ایک کھجور یا ایک گلاس پانی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ ملاقات کے وقت ملاقاتی کو کھانے پینے کی کچھ چیزیں پیش کرنا معروف سماجی اخلاق ہے۔
یہ صفت ہر انسان میں ہوتی ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ ملاقات کے وقت کچھ پینے یا کھانے کی چیز پیش کرنا گویا تقریب کا ذریعہ ہے۔ یہ طرفین کے درمیان دوری اور اجنبیت کو ختم کرنے والا ہے۔ تاہم اس حدیث کی اصل اسپرٹ یہ ہے کہ ہر آدمی کو دوسرے آدمی کے لیے خوش اخلاقی کا پیکر ہونا چاہیے۔
جب وہ کسی سے بات کرے تو سننے والے کو اس کی باتوں میں مٹھاس مل رہی ہو۔ جب وہ کسی کا ذکر کرے تو وہ اس کے بہترین نام کے ساتھ اس کا ذکر کرے۔ جب وہ کسی کو کوئی پیغام دے تو وہ پیغام ایسا ہو جو اس کے دل کو ٹھنڈا کرنے والا ہو۔ کسی کا قول ہے کہ آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیئٹ کرتا رہتا ہے، برف اپنے ماحول میں ٹھنڈک بکھیرتا ہے، اور آگ اپنے آس پاس گرمی پھیلاتی ہے۔
اسی طرح آدمی بھی ہر لمحہ مختلف پہلوؤں سے اپنے آپ کو ماحول میں توسیع دیتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر حال میں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، جاری رہتا ہے۔ اب ایک سچے انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پہلو سے اپنا نگراں بنا ہوا ہو۔ وہ اس بات کی مسلسل کوشش کرے کہ اس کی ذات سے ماحول کو ہمیشہ ٹھنڈک ملے۔
وہ لوگوں کے لیے ہمیشہ راحت ثابت ہو، نہ کہ کسی قسم کی مصیبت۔ جس انسان کی فطرت زندہ ہو، وہ یقیناً ایسا ہی ذائقہ بخش انسان ہوگا۔ اس سے جس آدمی کو بھی سابقہ پیش آئے گا، وہ اس کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوگا۔ ایسے انسان کے پاس سے گزرنے والے کو محسوس ہوگا کہ وہ پھولوں کی ایک وادی سے گزرا ہے، نہ کہ کانٹوں کی ایک جھاڑ جھنکار سے۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.