Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Kharch ki maden

Urdu · 4 min

خرچ کی مدیں: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو، اس میں حق ہے تمہارے ماں باپ کا، اور رشتہ داروں کا، اور یتیموں کا، اور محتاجوں کا، اور مسافروں کا۔ اور جو بھلائی تم کرو گے، وہ اللہ کو معلوم ہے۔ البقرہ 215۔

قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں کے اوپر خرچ کی کیا مدیں ہونی چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جن سے آدمی کا سابقہ پڑتا ہے، خواہ وہ وقتی ہو یا مستقل، وہ سب اس قابل ہیں کہ آدمی اپنا مال ان کے اوپر خرچ کرے۔ اس سلسلے میں فطری ترتیب یہ ہے کہ اگر آدمی کے رشتہ دار ضرورت مند ہوں تو سب سے پہلے اس کو اپنے ان رشتہ داروں کے اوپر خرچ کرنا چاہیے۔ اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کی ضرورت پوری کرنے میں بھی اتنا ہی ثواب ہے جتنا کہ دور کے لوگوں پر خرچ کرنے میں۔

قربت اور دوری اس معاملے میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتی۔ اس کے بعد فطری تقسیم میں پڑوسیوں کا درجہ ہے۔ آدمی کے پڑوس میں جو لوگ ضرورت مند ہوں، ان کی ضرورتیں پوری کرنا بہت بڑا انسانی عمل ہے۔ یہ پڑوسی مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں: ایک وہ جو آدمی کا مستقل پڑوسی ہو، دوسرے وہ لوگ جو سفر یا غیر سفر میں وقتی طور پر پڑوسی کا درجہ حاصل کر لیں۔

اسی طرح کوئی مسافر جو چلتا ہو، اسی طرح کوئی مسافر جو چلتا ہوا کسی بستی میں آ جائے، اس کا بھی یہ حق ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس کی ضرورت پوری کی جائے۔ سماجی عمل کے دوران بار بار ایسا ہوتا ہے: کوئی شخص یتیم ہو جاتا ہے، کوئی کسی حادثے کا شکار ہو کر حاجت مند بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ خصوصی طور پر مدد کے مستحق ہیں۔ ان کی مدد کرنا ہر سماج کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری ہے۔

ایسے لوگوں کی مدد انفرادی طور پر بھی ہونا چاہیے، اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان کو منظم طور پر مدد کرنے کے لیے اجتماعی ادارے قائم کیے جائیں۔ انفاق ایک اعتبار سے انسانی خدمت ہے، اور دوسرے اعتبار سے خدائی عبادت۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.