حدیدی اخلاق: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ اتاری کتاب اور میزان، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے، اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں، اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بن دیکھے۔ بے شک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انصاف پر قائم ہونے والا بنے۔
جس سماج کے افراد انصاف پر قائم ہوں، اس سماج کو مختلف پہلوؤں سے اس کا فائدہ پہنچے گا۔ ایسے سماج میں امن ہوگا، ایسے سماج میں لوگوں کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ ایسے سماج میں ہر آدمی کو یہ موقع حاصل ہوگا کہ وہ خدا کی نعمتوں میں سے اپنا حصہ آزادانہ طور پر لے سکے۔ ایسے سماج میں وہ تمام فائدے لوگوں تک بے روک ٹوک پہنچ رہے ہوں گے جو خدا نے انسانوں کے لیے مقدر کیے ہیں۔
انصاف پر قائم ہونا لازمی طور پر پختگی اور مضبوطی چاہتا ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف ایسے اسباب پیش آتے ہیں جو آدمی کو انصاف سے ہٹا دیں، جو اس کو بے انصافی کی روش پر چلنے کے لیے مجبور کر دیں۔ ایسی حالت میں صرف پختہ ارادہ اور مضبوط عزم ہی انسان کو مسلسل طور پر انصاف کی روش پر قائم رکھ سکتا ہے۔ لوہا علامتی طور پر اسی مضبوط کرداری کا سبق ہے۔
لوہے میں استثنائی طور پر غیر معمولی سختی رکھی گئی ہے، اس بنا پر وہ ان تمام چیزوں میں انسان کے لیے انتہائی کارآمد بن گیا ہے جس میں سختی ضرورت ہو۔ سوئی سے لے کر مشین اور پل تک بے شمار چیزیں لوہے کی اسی نفع بخش صفت کا مظہر ہیں۔ یہی مضبوطی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی انسانی فرائض ادا کرنے کے لیے لوہے کی طرح مضبوط بن جائے۔
انسان کے اندر حدیدی کردار کا ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ پختگی کے ساتھ سچائی پر قائم رہے گا۔ وہ ہر حال میں نفع بخش کردار کا حامل بنا رہے گا۔ حدید یعنی لوہا تشدد کی علامت نہیں، وہ مضبوطی کی علامت ہے۔ اسی لیے مضبوط آدمی کو حدیدی انسان یعنی لوہا پرش کہا جاتا ہے۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.