Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Husn-e-mu'aasharat

Urdu · 3 min

حسنِ معاشرت: موطا امام مالک، باب "ما جاء في المهاجرة" میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں! تم آپس میں مصافحہ کرو، اس سے کینہ چلا جائے گا۔ تم آپس میں ہدیہ دو، اس سے تمہارے اندر محبت پیدا ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی۔ تصافحُ، يذهب الغِلُّ، وتحابّ وتذهب الشحنة.

موطا امام مالک، صفحہ 653: انسانی سماج پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ صاحبِ احساس افراد کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد جب مل جل کر رہیں تو ان کی انسانی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں اچھے تعلقات ہوں۔ لوگوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے برادرانہ جذبات پائے جائیں۔ اس طرح کی انسانی فضا کو فروغ دینے کی صورت یہ ہے کہ جب بھی دو یا زیادہ آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے سے سلام اور مصافحہ کریں۔

سلام کا مطلب ایک دوسرے سے بہتر الفاظ کے ساتھ ملنا ہے، اور مصافحہ گویا اس سے آگے بڑھ کر مزید قربت کی ایک علامت ہے۔ سلام کے بعد جب دو آدمی ایک دوسرے سے مصافحہ کریں تو فطری طور پر ان کے درمیان اجنبیت ختم ہو جاتی ہے اور قربت کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی برادرانہ جذبے کی ایک اور بڑھی ہوئی صورت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ہدیہ اور تحفہ دیں۔ ہدیہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، جب وہ مخلصانہ جذبے کے تحت دیا جاتا ہے تو دینے والے اور پانے والے کے درمیان غیر معمولی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔

ہدیہ دو آدمیوں کو اعلیٰ انسانی رشتے میں باندھ دیتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ سماج کے اندر منفی رجحانات دبیں اور مثبت رجحانات فروغ پائیں۔ شکایت اور نفرت کی فضا ختم ہو اور لوگ محبت اور حسنِ تعلق کی فضا میں جینے لگیں۔ سماج میں اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سلام و مصافحہ، سماج میں اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سلام و مصافحہ اور ہدیہ و تحفہ جیسی چیزیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 120۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.