صبح و شام۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آدمی رشک کے قابل ہے جس کو اللہ نے مال دیا ہو، اور پھر وہ اس کو رات میں بھی اور دن میں بھی خرچ کرے۔ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يَتَصَدَّقُ بِهِ آَنَاءَ الَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ۔ فتح الباری، جلد 8، صفحہ 691۔
اسلام کے مطابق مال اس لیے نہیں ہے کہ آدمی اس کے ذریعے سے اپنی خواہشیں پوری کرے، بلکہ مال کسی کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے عام انسانوں کی خدمت کرے۔ مال بھلائی کمانے کے لیے ہے، نہ کہ ذاتی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے۔ اسلام کے مطابق انسان کی دو ذمہ داریاں ہیں: ایک خدا کی نسبت سے، اور دوسری عام آدمیوں کی نسبت سے۔ خدا کی نسبت سے آدمی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کا عبادت گزار بن جائے۔
آدمیوں کی نسبت سے اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کا خیر خواہ بنے، ہر ممکن موقع پر وہ دوسروں کے کام آئے۔ کوئی انسان بہت سے پہلوؤں سے عام آدمیوں کا مددگار بن سکتا ہے، انہی میں سے ایک اہم ذریعہ مال ہے۔ مال آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کر کے ان کا دل ٹھنڈا کرے، وہ دوسروں کے کام آ کر انہیں مشکلات سے نکالے۔ دوسروں کی مدد کرنا ایک نہایت اعلیٰ فکری جذبہ ہے۔
جب ایک آدمی دوسرے شخص کی مدد کر کے اس کو مصیبت سے نکالتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے خوشی کا ایک قیمتی موقع ہوتا ہے۔ یہ خوشی گویا اس کے عمل کی ایک نقد قیمت ہے۔ اس کی دوسری بڑی قیمت وہ ہے جو آدمی کو آخرت میں ملے گی۔ لوگوں کی ضرورتوں میں ان کے کام آنا کوئی وقتی عمل نہیں، یہ ایک مستقل صفت ہے۔
سچا انسان وہ ہے جو لوگوں کو خوش کرنے میں اپنی خوشی سمجھے، جو دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی کامیابی جانتا ہو، جو صبح و شام ایسے مواقع کی تلاش میں رہے جبکہ وہ دوسروں کی خدمت کر کے اپنی انسانیت کی تکمیل کر سکتا ہو۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 119۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.