پھل دار درخت ایک لمبی حدیث ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ہے جس کی مثال مومن جیسی ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ إن من الشجر شجرة مثلها كمثل المسلم. قال النبي صلى الله عليه وسلم: "هي النخلة". فتح الباری، جلد 1، صفحہ 199۔
کھجور کا درخت اور اس قسم کے دوسرے پھل دار درخت کا معاملہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ یہ درخت زمین سے اور ہوا سے اور سورج سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں، اس طرح اپنے آس پاس کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایک پھل دار درخت اپنے آپ کو زمین پر ایک طاقتور وجود کی صورت میں کھڑا کرتا ہے۔ پھر وہ ان حاصل کیے ہوئے اجزاء کو اس سے زیادہ قیمتی اور زیادہ مفید صورت میں بدلتا ہے، جس کو پھل کہا جاتا ہے۔ پھر یہ پھل بھی وہ اپنے لیے تیار نہیں کرتا، بلکہ صرف اس لیے کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اس کو کھائیں اور اس سے اپنے لیے غذا اور طاقت حاصل کریں۔
ٹھیک یہی معاملہ مومن کا بھی ہے۔ مومن جس سماج میں رہتا ہے، وہاں سے وہ بہت سی چیزیں حاصل کرتا ہے۔ اس طرح اس کی ذہنی اور جسمانی شخصیت کا ارتقاء ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کامل انسان بن جاتا ہے۔ مگر مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لینے کے وقت تو خوب لے، مگر دینے کے وقت وہ دینے کے لیے تیار نہ ہو۔
اس معاملے میں مومن وہی کرتا ہے جو کھجور کا درخت یا کوئی اور پھل دار درخت کرتا ہے۔ وہ اپنے وجود کے درخت پر لگے ہوئے پھل میں دوسروں کا بھی حصہ سمجھتا ہے۔ وہ اس طرح جیتا ہے کہ اس کا وجود صرف اس کی اپنی ذات کے لیے مفید نہ رہے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید بن جائے۔ اس نے جو کچھ دنیا سے پایا ہے، اس کو وہ صرف اپنے لیے سمیٹ کر نہیں رکھ لیتا، بلکہ اس کو وہ پوری انسانیت کا مشترک سرمایہ سمجھتا ہے۔
انسانیت کا کمال یہ ہے کہ آدمی دنیا سے جو کچھ پائے، اس کو زیادہ بہتر صورت دے کر وہ اسے دوبارہ دنیا کی طرف لوٹا دے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 118۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.