فائدہ پہنچانا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس درمیان میں ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مارا، وہ تکلیف سے تڑپنے لگا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں جھاڑ پھونک جانتا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کو جھاڑ دوں۔
پیغمبر اسلام نے جھاڑ پھونک کی حوصلہ افزائی نہیں کی، البتہ آپ نے فرمایا: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعَهُ» یعنی تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ» صحیح مسلم، بشرح النووی، جلد 14، صفحہ 186 تا 187۔ اس حدیث میں ایک اصولی بات کہی گئی ہے جو اسلامی اعتبار سے بھی بے حد اہم ہے اور انسانی اعتبار سے بھی۔ جس آدمی کے اندر انسانی احساس زندہ ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ کسی دوسرے کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھے گا۔
اسی طرح جس آدمی کے اندر ایمانی شعور موجود ہو، وہ مزید اضافے کے ساتھ دوسرے انسانوں کا خیر طلب بن جائے گا۔ حیوان صرف ذاتی تکلیف کو جانتا ہے، حیوان صرف اس تکلیف کو محسوس کر پاتا ہے جو خود اسے پیش آ رہی ہو۔ مگر انسان کا درجہ اس سے بلند ہے۔ انسان کو یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سوا دوسروں کی تکلیف کو بھی جانے اور اس کو شدت کے ساتھ محسوس کرے۔
جس انسان کے اندر یہ صفت نہ پائی جائے، وہ گویا انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو دوسروں کی ضرورت کو سمجھے، جس کی خوشی اس میں ہو کہ وہ دوسروں کے کام آ سکے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر سکون حاصل کرے۔ دوسروں کو نفع پہنچانا ایمان اور انسانیت کا لازمی تقاضا ہے۔
جس آدمی کی ذات سے دوسروں کو نفع نہ پہنچے، وہ گویا آدمی بھی نہیں۔ نفع بخشی اور انسانیت دونوں لازم ملزوم ہیں۔ جو آدمی نفع بخشی کی صفت سے خالی ہو، وہ یقینی طور پر انسانیت سے بھی خالی ہوگا۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 117۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.