برتر اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ امّاع نہ بنو، یعنی تم یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے، اور اگر وہ ہمارے ساتھ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں، تب بھی ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے، اور اگر وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں، تب بھی ہم ان کے ساتھ ظلم نہیں کریں گے۔ لا تكونوا إمّاعًا، تقولون إن أحسن الناس أحسنّا، وإن ظلمونا ظلمنا، ولكن وطّنوا أنفسكم، إن أحسن الناس أن تحسنوا، وإن أساءوا فلا تظلموا. الترمذی بحوالہ مشکات المصابیح جلد 3 صفحہ 1418: اسلامی اخلاق وہ ہے جو برتر اخلاق ہو، یعنی ہر حال میں اچھے اخلاق پر قائم رہنا، خواہ دوسروں کی طرف سے برے اخلاق کا تجربہ پیش آ رہا ہو۔
اسلامی اخلاق دوسروں کے ردِعمل میں نہیں بنتا، بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولی معیاروں کے تحت بنتا ہے۔ اسلام میں اخلاق ایک عبادت ہے، وہ کوئی جوابی انسانی رویہ نہیں۔ عبادت کا ثواب کیفیات کے اضافے کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی دوسروں کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ اچھے سلوک پر قائم رہے، تو اس کا ثواب بھی بڑھ جائے گا، کیونکہ وہ جذبات کی قربانی کی سطح پر جا کر حسن اخلاق کے اصول پر قائم رہا۔
معتدل حالات میں حسن اخلاق اگر سادہ طور پر تہذیبی برتاؤ یعنی مینرز کی حیثیت رکھتا ہے، تو غیر معتدل حالات میں حسن اخلاق اعلیٰ درجے کی عبادت بن جاتا ہے۔ معتدل حالات میں جو خوش اخلاقی برتی جاتی ہے، وہ انسانی شخصیت کے ارتقاء میں کچھ مددگار نہیں ہوتی۔ لیکن جب ایک آدمی غیر معتدل حالات میں دوسروں کے برے رویے سے غیر متاثر رہ کر حسن اخلاق پر قائم رہے، تو اس کی یہ روش اس کی شخصیت کے ارتقاء کا ذریعہ بن جائے گی۔ بد اخلاقی کے جواب میں حسن اخلاق بلاشبہ سب سے بڑا اخلاق ہے۔
اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 115۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.