Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Insani khidmat

Urdu · 4 min

انسانی خدمت۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی نے کسی مسلم کے دنیا کے غموں میں سے کسی غم کو دور کیا، تو اللہ اس کے قیامت کے غموں میں سے کسی غم کو دور کرے گا۔ جس نے کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کی مشکل کو آسان کیا، تو اللہ اس کی دنیا اور آخرت کی مشکل کو آسان کرے گا۔ جس نے کسی مسلم کی پردہ پوشی کی، تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔

اور اللہ بندے کی مدد پر رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۔ إِنِّ اللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی المعونة للمسلم، جلد 4، صفحہ 288۔ اسلام کی اس تعلیم نے انسانی خدمت کے معاملے کو ہر آدمی کا ذاتی معاملہ بنا دیا ہے۔ اس کے مطابق کوئی آدمی جب کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔

اس نے جو کچھ دوسروں کے ساتھ کیا ہے، وہی زیادہ بڑے پیمانے پر وہ خدا سے اپنے لیے پا لیتا ہے۔ یہ تعلیم آدمی کے اندر انسانی خدمت کا غیر معمولی جذبہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ جب کسی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے لیے وہ قیمتی لمحہ آ گیا، جبکہ وہ اس کی تکلیف کو دور کر کے اپنے آپ کو خدا کی رحمتوں کا مستحق بنا لے۔ اسی طرح جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی انسان مشکل میں پھنسا ہوا ہے، تو وہ اس کو مشکل سے نکالنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے، کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ دوسرے کی مشکل کشائی خود اس کے لیے نازک تر مواقع پر مشکل کشائی کا سبب بنے گی۔

جب کسی کا عیب اس کے علم میں آتا ہے تو وہ اس کا اشتہار کرنے کے بجائے وہ اس کو چھپاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ خدا اس کے عیبوں کو چھپائے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کبھی کوئی شخص ضرورت مند ہوتا ہے، اور کوئی شخص اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند کے پاس پہنچے اور اس کی ضرورت کو پورا کرے۔ یہ حالات اس لیے ہیں تاکہ صاحب حیثیت آدمی دوسرے کی مدد کر کے اپنے آپ کو خدا کی مدد کا مستحق بنائے۔

اور جس کی مدد کی گئی ہے، وہ احسان مندی کا اظہار کر کے اپنے اندر اعتراف کے جذبے کی پرورش کرے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 114۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.