Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Insani balandi

Urdu · 4 min

انسانی بلندی۔ قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ارشاد ہوا ہے کہ "اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے، اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔

پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔ " الاعراف 176۔ موجودہ دنیا حق کی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ انسان کا ضمیر اس کو سچائی کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ سچائی کا خاموش اعلان ہے۔ اسی کے ساتھ خدا کا پیغمبر، خدا سے ہدایت لے کر، الفاظ کی صورت میں اس حقیقت کا آخری حد تک اظہار کر رہا ہے۔ اس طرح خدا نے انسان کے لیے ہدایت کا عالمگیر اہتمام کر رکھا ہے۔ اگر انسان ان خدائی آوازوں کو سنے اور ان سے ہدایت لینے کی کوشش کرے تو وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔

آدمی یقینی طور پر سچائی کو پا لے گا، اور پھر اس منزل کی طرف چل پڑے گا جو اس کی کامیابی کی اصل منزل ہے۔ اس عمل کے دوران اس کا ذہنی ارتقا ہوگا۔ اس کی روح ترقی یافتہ روح بنتی چلی جائے گی۔ وہ خدا کا وہ مطلوب انسان بن جائے گا جس کے لیے اس نے ابدی سعادتیں مقدر کی ہیں۔

مگر انسان، مگر اکثر انسانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آتا ہے کہ وہ مادی ترغیبات کے مقابلے میں شکست کھا جاتے ہیں۔ مادی رونقیں انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ وہ ضمیر کی آواز، کائنات کا اعلان، اور پیغمبر کی ہدایت ہر ایک کو نظر انداز کر کے مادی زینتوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اور آخر کار یہ ہوتا ہے کہ بہترین امکانات سے بھری ہوئی دنیا میں وہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔

خدا نے انسان کے لیے اس دنیا میں بہترین امکانات کھولے ہیں۔ اس نے یہاں وہ تمام اسباب مہیا کر دیے ہیں جس کے ذریعے انسان بلندیوں کی طرف سفر کر سکے۔ مگر اس سفر کی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو سطحی چیزوں سے اوپر اٹھائے۔ وہ خواہش کی پیروی نہ کرے۔

وہ ظاہری رونقوں کو نظر انداز کر کے اعلیٰ حقیقتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے۔ ایسے ہی لوگ اعلیٰ انسانی مرتبے تک پہنچیں گے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں وہ اپنے آپ کو پستیوں میں گرا لیں گے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 110۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.