Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Zamana gawah hai

Urdu · 5 min

زمانہ گواہ ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 103 میں ارشاد ہوا ہے: "زمانہ گواہ ہے، بے شک انسان گھاٹے میں ہے"۔ مگر جو لوگ کہ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ العصر 13.

انسان ایک مخصوص زمانے میں پیدا ہوتا ہے۔ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عمر آگے بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمانے کی اس حد پر پہنچ جاتا ہے جو اس کی عمر کی آخری حد ہے۔ اب اس پر موت آ جاتی ہے۔ انسانی زندگی کی یہ نوعیت بتاتی ہے کہ وہی انسان کامیاب ہے جو اپنے ملے ہوئے وقت کو استعمال کر سکے، ورنہ وقت گزر جائے گا اور آخر میں اس کے حصے میں کچھ نہ ہوگا۔

آدمی ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلتِ عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصے میں جو چیز آئے گی وہ صرف محرومی ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے، جبکہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔

ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا، جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگوں، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ لوگوں، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے، اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے۔

تفسیر کبیر، امام رازی۔ اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے: ایک، ایمان یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف؛ دوسرے، عمل صالح یعنی وہی کرنا جو کرنا چاہیے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہیے؛ تیسرے، حق و صبر کی تلقین یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادراک کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے۔ اس دنیا میں ایک کامیاب زندگی پانے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ آدمی جب خلافِ ایمان باتوں کا چھوڑنا برداشت کرتا ہے، اسی وقت اس کو ایمان کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔

جب وہ اپنی خواہشوں پر بریک لگاتا ہے، اسی وقت عمل صالح کو اختیار کرنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ جب وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگواریوں پر صبر کرتا ہے، اسی وقت وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو حق کی نصیحت کر سکے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.