Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ma'addi daud

Urdu · 4 min

مادی دوڑ۔ قرآن کی سورہ نمبر 102 میں ارشاد ہوا ہے: "اے لوگو! زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم مر کر قبروں میں جا پہنچے۔ ہرگز نہیں، تم بہت جلد جان لو گے۔

پھر ہرگز نہیں، تم بہت جلد جان لو گے۔ ہرگز نہیں، کاش تم یقین کے ساتھ جانتے کہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم اس کو یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھ ہوگی۔

" التکاثر 1:8۔ موجودہ دنیا طرح طرح کی مادی چیزوں کا ایک وسیع دسترخوان ہے۔ یہ چیزیں دنیا میں امتحان کے لیے رکھی گئی ہیں، نہ کہ آزادانہ استفادے کے لیے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو امتحان کی نظر سے دیکھے تو وہ بقدرِ ضرورت ان کو حاصل کرے گا، اور احتیاط اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ان کو استعمال کرے گا۔

لیکن آدمی عام طور پر ذمہ دارانہ رویے پر قائم نہیں رہ پاتا۔ مادی چیزوں کی کشش اس کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہے کہ وہ انہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کی حرص کہیں نہیں رکتی؛ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کو دنیا کی کمائی میں مشغول کر دیتا ہے۔

وہ اسی حال میں اپنے صبح و شام بسر کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آ جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کو موجودہ دنیا میں چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ اس وقت اچانک وہ اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو زندگی کے اگلے مرحلے میں اس کے کام آ سکے۔ آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ ساز و سامان اپنے پاس جمع کرے۔

وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی، اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے، اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.