احسن تخویل: قرآن کی سورہ نمبر 95 میں ارشاد ہوا ہے: "قسم ہے تین کی اور زیتون کی، اور طورِ سینا کی، اور اس امن والے شہر کی؛ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تو ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ " تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو؟ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟
التین 1:8: "تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں جو بیت المقدس کے قریب واقع ہیں" یعنی وہ مقام جہاں حضرت مسیح آئے اور لوگوں کے سامنے خدائی ہدایت کا اعلان کیا۔ طورِ سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے اپنا کلام نازل فرمایا۔ بلدِ امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبرِ اسلام مبعوث ہوئے، اور آپ پر خدا نے اپنا آخری ہدایت نامہ اتارا۔ یہ مقامات اس حقیقت کی تاریخی یادگار ہیں کہ خدا انسان کی نگرانی کر رہا ہے؛ وہ اپنی پسند اور ناپسند کا علم مستند ذریعے سے اس کے پاس بھیجتا ہے۔
اس طرح خدا ہر ایک کو پیشگی طور پر بتا رہا ہے کہ وہ اس دنیا میں کس قسم کی زندگی گزارے، تاکہ وہ برے انجام سے بچ جائے اور خدا کی ابدی نعمتوں میں اپنا حصہ پا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے؛ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعے ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں ان کو ٹھکانہ مل سکے۔
پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعے ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ صرف اعلیٰ مقصد ہی انسان کی زندگی کا مقصد ہو سکتا ہے۔ وہ اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی صلاحیتوں کے صحیح استعمال کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کرے اور خدا کی پسند والی زندگی گزارے۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں بہت بڑا انعام ہے۔
جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں، ان کا انجام کامل گھاٹے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 102۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.