پرچہ امتحان: قرآن کی سورہ الفجر نمبر 89 میں ارشاد ہوا ہے: "پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ " اور جب وہ اس کو آزماتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔ ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے، اور تم مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں ابھارتے، اور تم وراثت کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور تم مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو۔ ہرگز نہیں، جب زمین کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا، اور تمہارا رب آئے گا اور فرشتے آئیں گے، قطار در قطار، اور اس دن جہنم لائی جائے گی۔
اس دن انسان کو سمجھ آئے گی، اور اب سمجھ آنے کا موقع کہاں؟ وہ کہے گا: کاش میں اپنی زندگی میں کچھ آگے بھیجتا۔ پس اس دن نہ تو خدا کے برابر کوئی عذاب دے گا، اور نہ اس کے باندھنے کے برابر کوئی باندھے گا۔ اے نفسِ مطمئن، چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی، پھر شامل ہو میرے بندوں میں، اور داخل ہو میری جنت میں۔
الفجر 15:30 دنیا میں آدمی کو دو قسم کے احوال پیش آتے ہیں: کبھی پانا اور کبھی محروم ہو جانا۔ یہ دونوں حالتیں امتحان کے لیے ہیں، وہ اس جانچ کے لیے ہیں کہ آدمی کس حالت میں کون سا ردعمل پیش کرتا ہے۔ جس شخص کا معاملہ یہ ہو کہ جب اس کو کچھ ملے تو وہ فخر کرنے لگے، اور جب اس سے چھینا جائے تو وہ منفی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، ایسا شخص امتحان میں ناکام ہو گیا۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ جب اس کو ملا تو اس نے خدا کے سامنے جھک کر اس کا شکر ادا کیا، اور جب اس سے چھینا گیا تو دوبارہ اس نے خدا کے آگے جھک کر اپنے عجز کا اقرار کیا۔
یہی دوسرا انسان ہے جس کو یہاں نفسِ مطمئنہ کہا گیا ہے، یعنی مطمئن روح۔ دنیا میں آدمی کو مال کی صورت میں یا کسی اور صورت میں جو چیزیں ملتی ہیں، وہ سب اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں۔ وہ بذاتِ خود مطلوب نہیں ہیں، بلکہ ایک اور مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ آئندہ آنے والی ابدی زندگی میں اس کی نجات کا ذریعہ بن سکے۔
اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.