Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Mohlat ka lamha

Urdu · 4 min

مہلت کا لمحہ: قرآن کی سورہ نمبر 86 میں ارشاد ہوا ہے کہ "قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی" اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟ چمکتا ہوا تارا: کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر نگہبان نہ ہو۔ تو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کے درمیان سے۔

بے شک وہ اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جس دن چھپی باتیں پرکھی جائیں گی، اس وقت انسان کے پاس کوئی زور نہ ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ قسم ہے آسمان چکر مارنے والے کی اور پھوٹ نکلنے والی زمین کی۔ بے شک یہ دو ٹوک بات ہے، اور وہ ہنسی کی بات نہیں۔

وہ تدبیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور میں بھی تدبیر کرنے میں لگا ہوا ہوں۔ پس منکروں کو ڈھیل دے، ان کو ڈھیل دے تھوڑے دنوں۔ التاریخ 1:17: انسان کے اوپر ستارے کا چمکنا، تمثیل کی زبان میں، اس واقعے کی ایک یاد دہانی ہے کہ کوئی دیکھنے والا اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دیکھنے والا انسان کے اعمال کو ریکارڈ کر رہا ہے۔

وہ موت کے بعد دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا، اور اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا۔ یہ صرف امتحان کی مہلت ہے جو انسان کے درمیان اور آنے والے وقت کے درمیان حدِ فاصل بنی ہوئی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کا وہ انجام سامنے آ جائے گا جس سے آج وہ بظاہر بہت دور نظر آتا ہے۔ کائنات کا خالق اپنی ذات کے اعتبار سے غیب میں ہے، مگر اپنے تخلیقی عمل کے اعتبار سے وہ کائنات کی ہر چیز میں نمایاں ہے۔

انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ کائنات پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو پا لے گا۔ وہ اس حقیقت کو جان لے گا کہ موجودہ کائنات میں اس کے لیے صرف خدا کی اطاعت کا رویہ درست ہے۔ خدا کے ساتھ سرکشی کرنے والے کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ مسنون سانح کا تعارف ہے۔

اسی طرح مخلوقات میں دیکھنے والے کے لیے خالق کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.