Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ay insaan

Urdu · 4 min

اے انسان، قرآن کی سورہ نمبر 84 میں ارشاد ہوا ہے: "جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اپنے رب کا حکم سن لے گا" اور وہ اسی لائق ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزوں کو اُگل دے گی اور خالی ہو جائے گی اور وہ اپنے رب کا حکم سن لے گی اور وہ اسی لائق ہے۔ اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف جا رہا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے۔ تو جس کو اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے لوگوں کے پاس خوش خوش آئے گا۔

اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا، وہ موت کو پکارے گا اور جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ اپنے لوگوں میں بے غم رہتا تھا، اس نے خیال کیا تھا کہ اس کو لوٹنا نہیں ہے۔ کیوں نہیں، اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔ پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی جب وہ پورا ہو جائے۔

کہ تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ تو انہیں کیا ہو گیا کہ وہ ایمان نہیں لاتے؟ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف نہیں جھکتے، بلکہ منکرین جھٹلا رہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں۔

پس ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے، ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ الانشخاخ 1:25 یہاں قیامت سے متعلق جو بات کہی گئی ہے، وہ بظاہر نامعلوم دنیا کے بارے میں ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم ایسے شواہد موجود ہیں جو اس کی صداقت کا قرینہ پیدا کرتے ہیں۔

اس کی ایک مثال موجودہ دنیا ہے۔ ایک دنیا کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسری ایسی ہی یا اس سے بہتر دنیا وجود میں آ سکتی ہے۔ دوسرے، قرآن میں ایسے غیر معمولی پہلوؤں کا موجود ہونا جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی کتاب ہے۔ ان واضح قرائن کے بعد جو لوگ آخرت پر یقین نہ کریں اور آخرت فراموشی کی زندگی گزاریں، وہ بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 98۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.