Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Nizaam-e-khudawandi

Urdu · 5 min

نظامِ خداوندی۔ قرآن کی سورہ نمبر 79 میں ارشاد ہوا ہے: "کیا تمہارا بنانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟ " اللہ نے اس کو بنایا، اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اس کو درست بنایا، اور اس کی رات کو تاریک بنایا، اور اس کے دن کو ظاہر کیا، اور زمین کو اس کے بعد پھیلایا۔ اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اور پہاڑوں کو قائم کر دیا، سامانِ حیات کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔

پھر جب وہ بڑا ہنگامہ آئے گا، جس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا، اور دیکھنے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی۔ پس جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، تو دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوگا، اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا، اور نفس کو خواہش سے روکا، تو جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ وہ قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب کھڑی ہوگی؟ تم کو کیا کام اس کے ذکر سے؟

یہ معاملہ تیرے رب کے حوالے ہے، تم تو بس ڈرانے والے ہو اس شخص کو جو ڈرے۔ جس روز یہ اس کو دیکھیں گے، تو گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے، مگر ایک شام، یا اس کی صبح۔ النازعات 27:46۔ کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے، وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہو جاتا ہے۔

پھر جس دنیا میں بڑے واقعے کا ظہور ممکن ہو، وہاں چھوٹے چھوٹے واقعے کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا؟ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابلِ فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔ آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے: ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے، اور دوسرے آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے، مگر یہ کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

انسان کو موجودہ دنیا میں آزمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ آزمائش لازمی طور پر آزادی چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو کائنات کے بقیہ اجزا کی طرح مجبور نہیں کیا گیا۔ اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے آپ کو نظامِ خداوندی کے مطابق بنائے، اور چاہے تو اس سے منحرف ہو جائے۔

مگر یہ آزادی صرف عمل کے لیے ہے، نہ کہ انجام کے لیے۔ انسان کا آخری انجام بہرحال وہی ہونا ہے جو خدا کے محکم قانون کے مطابق اس کا ہونا چاہیے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 95۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.