Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Do raastey

Urdu · 4 min

دو راستے۔ قرآن کے سورہ نمبر 76 میں ارشاد ہوا ہے کہ کبھی انسان پر زمانے میں ایک وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط بوند سے پیدا کیا، ہم اس کو پلٹتے رہے، پھر ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔ ہم نے اس کو راہ سجائی، چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا۔

ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ نیک لوگ ایسے پیالے سے پیئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔ اس چشمے سے خدا کے بندے پیئیں گے، وہ اس کی شاخیں نکالیں گے۔ وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی، اور اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔

ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو خدا کی خوشی چاہنے کے لیے، ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ پس خدا نے ان کو اس دن کی سختی سے بچا لیا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائی، اور ان کے صبر کے بدلے میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کیا۔ الدہر ایک تبارہ۔

دنیا میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا اور پھر اس کو راہ دکھا دی گئی، ناشکری کی راہ اور شکر گزار زندگی کی راہ۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے، اس کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے، اور جو شخص شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرے، اس کے لیے جنت کی نعمتیں۔ جو آدمی خدا کو پہچان لے، اسی کے ساتھ وہ تمام حقیقتوں کو بھی پہچان لیتا ہے۔

خدا کا علم اس کے اوپر دوسرے تمام علوم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ وہ اگر ایک طرف خدا شناس بنتا ہے تو دوسری طرف وہ پورے معنوں میں حقیقت شناس بھی بن جاتا ہے۔ اس کی یہ معرفت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ خدا کے حقوق بھی ادا کرے اور اسی کے ساتھ دوسرے انسانوں کے حقوق بھی۔ فطرت اور شریعت میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 94۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.