اندرونی شہادت: قرآن کی سورہ نمبر 75 میں ارشاد ہوا ہے، نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی، اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے؟ کیوں نہیں، ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پور پور تک درست کر دیں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ ڈھٹائی کرے اس کے سامنے، وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا؟
پس جب آنکھیں خیرا ہو جائیں گی اور چاند بے نور ہو جائے گا، اور سورج اور چاند اکٹھا کر دیے جائیں گے، اس دن انسان کہے گا کہ کہاں بھاگوں؟ ہرگز نہیں، کہیں پناہ نہیں، اس دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانہ ہے۔ اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ بلکہ انسان خود اپنے آپ کو جانتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔
القیامہ 1:15: ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک صلاحیت موجود ہے، اس کو نفس لوامہ یا ضمیر کہا جاتا ہے۔ یہ صلاحیت آدمی کے اندر آزادانہ طور پر کام کرتی ہے، اور اس کی عقل اور اس کی خواہش دونوں سے غیر متاثر رہ کر بار بار اس کو یہ بتاتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ضمیر گویا خدا کی عدالت ہے، وہ پیشگی طور پر انسان کو اس کی غلطیوں سے خبردار کرتی ہے، وہ بار بار اس کو بتاتی ہے کہ اس کے لیے درست رویہ کیا ہے اور غلط رویہ کیا ہے۔ اس کے باوجود انسان خدا سے غافل ہو جاتا ہے، وہ اس طرح زندگی گزارتا ہے جیسے کہ قیامت کا دن آنے والا نہیں ہے، جبکہ اس سے اس کے قول و عمل کا حساب لیا جائے گا۔
جو آدمی اس قسم کا رویہ اختیار کرے، وہ گویا خود اپنی فطرت کا انکار کر رہا ہے، خود اس کا اندرون اس کو آواز دیتا ہے، مگر وہ اس کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا ضمیر پیشگی طور پر اس کے حق میں خدائی فیصلے کا اعلان ہے۔ آدمی اگر اس آواز پر کان لگائے، آدمی اگر اس آواز پر کان لگائے، تو وہ موت سے پہلے ہی یہ جان لے گا کہ موت کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 93۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.