Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Nemat-e-ta'aam

Urdu · 4 min

نعمتِ طعام قرآن کی سورہ نمبر 80 میں ارشاد ہوا ہے: "پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کو دیکھے۔ " ہم نے پانی برسایا اچھی طرح، پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا، پھر اگائے اس میں غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور پھل اور سبزہ تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ حیات کے طور پر۔ پس جب وہ کانوں کو بہرا کر دینے والا شور برپا ہوگا، جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے، ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے، ہنستے ہوئے، خوشی کرتے ہوئے، اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی، ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔

یہی لوگ منکر ہیں، ڈھیٹ ہیں۔ عبس 24 تا 42۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل خوراک کی ضرورت ہے۔ اس خوراک کا انتظام ہماری زمین پر نہایت وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے، جبکہ اس انتظام میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔

اس خوراک کا ایک انتظام وہ ہے جو ہمارے لیے زرعی پیداوار کی صورت میں کیا گیا ہے۔ زمین پر پانی کا انتظام اور پانی کے ذریعے طرح طرح کے غلے اور میوے کا پیدا ہونا، اس زرعی پیداوار کی حیثیت ہمارے لیے براہِ راست خوراک کی ہے۔ دوسری خوراک وہ ہے جس کو بالواسطہ طور پر تیار کیا جاتا ہے، یعنی حیوانات کا زمینی پیداوار کو کھا کر اس کو گوشت کی صورت میں تبدیل کرنا۔ اس نعمت کا تقاضا ہے کہ انسان دنیا میں خدا پرست بن کر رہے۔

یہ خدا پرستی جو انسان سے مطلوب ہے، اس کا محرک اصلًا شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گرد و پیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازمًا اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبے کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے، اسی کا نام خدا پرستی ہے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 96۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.