پیغمبرانہ رہنمائی: قرآن کی سورہ نمبر 53 میں ارشاد ہوا ہے: "کیا انسان کو خبر نہیں پہنچی اس بات کی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے، اور ابراہیم کے، جس نے اپنا قول پورا کر دیا؟ " کہ کوئی اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور یہ کہ انسان کے لیے وحی ہے جو اس نے کمایا، اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ سب کو تمہارے رب تک پہنچنا ہے۔ النجم 36 تا 42: اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اسی کے ساتھ اس کی ہدایت کے لیے پیغمبروں کا سلسلہ قائم فرمایا، ہر دور میں اور ہر قوم میں پیغمبر آتے رہے، اور وہ انسانوں تک خدا کی ہدایت پہنچاتے رہے۔ زندگی گزارنے کا سامان لوگوں کو خود اسی دنیا میں ملتا رہا، لیکن زندگی کے اصول اس کے پاس بار بار آسمان سے بھیجے جاتے رہے۔
ہر پیغمبر یکساں طور پر خدا کا سچا نمائندہ تھا، مگر زمانہ گزرنے کے ساتھ پچھلے پیغمبروں کی کتابیں اور ان کی ہدایات یا تو مٹتی رہیں یا بدلتی رہیں، یہاں تک کہ آخر میں خدا نے پیغمبر عربی کو قرآن کے ساتھ بھیجا، اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت کو کامل طور پر محفوظ کر دیا، تاکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے وہ مستند رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے۔ پیغمبروں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا ہے، اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا ہے۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ خدا کی نسبت سے انسان کا جو معاملہ ہے، اس میں ہر آدمی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
کوئی بھی آدمی نہ دوسرے کے انجام میں شریک ہو سکتا ہے، اور نہ کوئی آدمی کسی بھی اعتبار سے دوسرے شخص کا مددگار بن سکتا ہے۔ خدا کی دنیا میں ہر آدمی کے لیے صرف وہی ہے جس کے لیے اس نے خود محنت کی ہو۔ ایک کی محنت کسی بھی حال میں دوسرے کے کام آنے والی نہیں۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 89۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.